بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عبدالباری عطوان کہتے ہیں: ہاں، تباہی ہوگی لیکن ایران ایک براعظم ہے؛ تم اس میں کیا تباہ کرنا چاہتے ہو؟ ایران یقیناً بدلہ لے گا اور ایرانی قوم ایک باوقار اور با عزت قوم ہیں جو جارحیت قبول نہیں کرتی اور اس جارحیت کے سامنے کھڑی ہو جائے گی۔
عطوان اس ویڈیو میں کہتے ہیں:
امریکہ کی گہری حکومت (اسٹبلشمنٹ) نے ٹرمپ سے کہا: تم کہاں جا رہے ہو؟ کس کے مفاد کے لئے ایران کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے ہو؟ اصولی طور پر، ایران کے ساتھ جنگ میں ہم امریکیوں کے کیا مفادات ہیں؟ کیا ہمیں درپیش مسائل و مشکلات کم ہیں؟ کیا ہمیں کم تابوت اٹھانا پڑے ہیں؟
یہ گہری حکومت تھی جو میدان میں آئی اور ٹرمپ سے کہا: ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ ممنوع ہے، کیونکہ یہ ہمارے (امریکیوں کے) کے مفاد میں نہیں ہے اور ہمارے لئے ویرانیوں اور تباہیوں کا سبب بنتی ہے۔
امریکہ کی اندرونی صورت حال ٹرمپ کے خلاف ہے۔
اسٹبلشمنٹ والے اس نتیجے پر پہنچے کہ امریکہ اس جنگ میں شکست کھائے گا، اور اسے بہت بھاری شکست سے دوچار ہونا پڑے گا اور ایران کو شکست نہیں دے پائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے، جی ہاں تباہی معرض وجود میں آئے گی لیکن ایران ایک بر اعظم ہے، تم [ٹرمپ] ایران میں کس چیز کو وہاں تباہ کرنا چاہتے ہو؟
ایران حتمی طور پر انتقام لے گا، اور ملت ایران ایک باوقار اور عزت نفس کی مالک قوم ہے جو جارحیت کو برداشت نہیں کرتی اور اس جارحیت کے مقابلے میں کھڑی ہوگی۔
اسرائیل نے ایران کا نظام حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اسے شکست ہوئی۔ بارہ روزہ جنگ نے ایران کی تقریبا 30 فیصد میزائل صلاحیت اور فوجی صلاحیت کو عیاں کیا اور اسی مسئلے نے اسرائیلیوں کو غیر معمولی انداز سے خوفزدہ کر دیا۔
نیتن یاہو کے دورہ امریکہ سے معلوم ہؤا کہ کون ہے جو امریکہ پر حکومت کرتا ہے؟ کیا نیتن یاہو امریکہ کو چلاتا ہے یا ٹرمپ؟ یہ وہی بڑا سوال ہے۔
ایران اپنے طاقتورترین ہتھیار ـ یعنی اپنے میزائلوں ـ کو کبھی بھی ترک نہیں کرے گا۔
چنانچہ مستقبل اسرائیل کے حق میں نہیں ہے، یہ دشمن صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے؛ ہتھیار ڈالنے اور سر جھکانے کسی صورت میں بھی مفید نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ