3 جنوری 2026 - 12:22
کیوبا: امریکی ریاستی دہشت گردی نے پورے براعظمِ امریکا کو نشانہ بنا دیا

کیوبا کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے حالیہ حملے نہ صرف وینزوئلا بلکہ پورے لاطینی امریکا کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کیوبا کے صدر میگل دیاز کانیل نے ایک باضابطہ بیان میں امریکہ کی جانب سے وینزوئلا پر کیے گئے فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔

میگل دیاز کانیل نے امریکی کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صرف بہادر وینزوئلین عوام کے خلاف نہیں بلکہ پورے براعظمِ امریکا کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے، جو امریکی ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وہ خطہ جو طویل عرصے سے ایک محفوظ علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے، اب واشنگٹن کی جارحانہ پالیسیوں کی زد میں آ چکا ہے۔

دوسری جانب وینزوئلا کی حکومت نے حملوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی جارحیت نے بین الاقوامی امن و استحکام، خصوصاً لاطینی امریکا اور کیریبین خطے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

کاراکاس حکام کے مطابق اس حملے کا مقصد ایک نوآبادیاتی جنگ مسلط کرنا، جمہوری نظام کو تباہ کرنا اور نام نہاد فاشسٹ اولیگارکی کی مدد سے ’’رژیم چینج‘‘ کا منصوبہ نافذ کرنا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوشش بھی ماضی کی تمام ناکام سازشوں کی طرح ناکام ہو گی۔

وینزوئلا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک نے 1811ء سے لے کر آج تک سامراجی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور انہیں شکست دی ہے، اور اب ایک بار پھر وینزوئلین قوم اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع کے لیے متحد ہو چکی ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر ملکی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کریں۔

بیان میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وینزوئلا کو اپنے عوام، سرزمین اور قومی آزادی کے تحفظ کے لیے دفاعِ کا پورا حق حاصل ہے۔ اس موقع پر سابق صدر ہوگو شاویز کے تاریخی الفاظ بھی دہرائے گئے کہ:
“ہر نئی مشکل کے مقابلے میں، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، محب وطنوں کا جواب اتحاد، جدوجہد، مزاحمت اور فتح ہے۔”

ادھر کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی کو مسترد کر دیا جو کشیدگی میں اضافہ یا عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے۔ انہوں نے ممکنہ انسانی اور مہاجرین بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کی وزارتِ خارجہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے گی۔

مجموعی طور پر کیوبا کا دوٹوک مؤقف اور وینزوئلا کی شدید وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کی آزاد حکومتیں امریکہ کی مداخلت پسند اور جنگی پالیسیوں پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ہوانا اور کاراکاس کے مطابق، واشنگٹن کی جانب سے فوجی طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششیں خطے کے امن، آزادی اور اقوام کے حقِ خودارادیت کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha