بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں، ایک تصور پایا جاتا تھا کہ "جدید انسان اپنی سرکش اور جِبِلّی خصلتوں کو لگام دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
مفکرین اور فلسفیوں کا خیال تھا کہ "ہم اس زمانے میں داخل ہوئے ہیں جس میں "قانون" اور "کلام" زور بازو کی جگہ لے چکا ہے؛ اور ایک علامتی اور غیر مرئی ترتیب حکومتوں کے رویوں پر حکم فرما ہے تاکہ دنیا "لاقانونیت کا جنگل" نہ بننے پائے۔ لیکن حالیہ چند برسوں، ـ بالخصوص حالیہ ہفتوں میں وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے ساتھ ـ امریکہ کا طرز سلوک، ایک بھاری ہتھوڑے کی مانند اس شیشے کے اس کمزور شوکیس پر اتر آیا اور اس کے پرخچے اڑا دیا۔ جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں، ان اداروں کا یکے بعد دیگرے زوال ہے جنہیں سلامتی کی ضمانت دینا تھی، لیکن اب ان اداروں کو لاقانونیت کو قانون کے طور پر پیش کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وینزویلا کی داستان، محض ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک موڑ کا نقطہ ہے جس سے عیاں ہوتا ہے کہ "سفارت کاری" نے کس طرح اپنی جگہ "راہزنی" کو دے دی ہے۔ جب ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے صدیوں پر محیط سفارتی آداب کو پاؤں تلے روند کر، ایک قانونی ریاست کی منتخب صدر کی گرفتاری کے لئے انعمام مقرر کرتا ہے اور علی الاعلان اس کے اغوا کے لئے فوجی منصوبے بناتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو ایسے ملک کا سامنا نہیں ہے جو روایتی معنوں میں ایک معمول کا ملک سمجھا جا سکے۔ یہ رویہ بحری قزاقوں کے تاریک دور کی طرف لوٹ جانے کا اعلان ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے بحری قزاق خوش پوش ہیں، مائیکروفون کے پیچھے کھڑے ہوکر اپنا مدعا بیان کرتے ہیں، پرفیوم استعمال کرتے ہيں اور پالش شدہ جوتوں اور ٹائی کے ساتھ منظر عام پر آتے ہیں۔ جدید سیاسی نظریات میں اس صورت حال کو "قانون کی معطلی" کا نام دیا جاتا ہے جس میں طاقتور خود کو ہر قاعدے و قانون سے بالاتر اور ہر سزا اور تعاقب سے بری سمجھتے ہیں، اور اپنے مخالفین کو جینے کا حق دینے کے روادار نہیں ہیں۔
نکولس مادورو کے خلاف اقدام اور ـ جمہوریت کے نام پر ـ وینزویلا کے سونے اور تیل کے ذخائر لوٹنے کی کوشش نے ایک حقیقت کے چہرے سے نقاب کھینچ لیا جو برسوں سے درپردہ رہ گئی تھی: یہ کہ مغربی لبرلزم کی منطق میں، ممالک کی قومی حکمرانی صرف اس دن تک محترم ہے جب تک کہ وہ "لبرلزمکی طاقت کے مرکز" کی خدمت میں ہو۔ لیکن اس منظم تشدد کے بہتر ادراک کے لئے ہمیں "خطائے دید" (Visual error) سے دوچار نہیں ہونا چاہئے اور اس واقعے کو ایک شاذ و نادر اتفاق نہ سمجھیں۔ اس رویے کی جڑیں اس تہذیب کی تاریخ اور حقیقت میں پیوست ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو "انسانی حقوق" جیسی خوبصورت اصطلاحات کے پیچھے چھپا رکھا ہے۔ امریکی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک ہولناک حقیقت آشکار ہوجاتی ہے؛ ایسا ملک جس نے اپنی 250 سالہ تاریخ میں صرف 16 کا عرصہ مکمل امن کے ساتھ، اور جنگ کے بغیر، گذارا ہے! یہ لرزہ خیز تاریخ بتاتی ہے کہ اس کی طرف کی چھیڑی ہوئی جنگیں، اور بحران سازیاں شاذ و نادر واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ تو اس ڈھانچے کو متحرک کرنے والے انجن اور اس کی حیات کے لئے ضروری سانس لینے کا نظام (Respiratory System) ہے۔
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری سے لے ـ جس میں سائںس اور ٹیکنالوجی اجتماعی قتل کے آلے کے طور پر استعمال ہوئی، ـ دنیا کے مختلف علاقوں میں خونریز بغاوتوں تک، سب کے سب ایک ہی پزل (Puzzle) کے اجزاء ہیں۔ یہیاں تک کہ ہٹلر، نازی ازم اور فاشزم (Fascism یا فاشیت و فسطائیت) کو بھی مغربی تہذیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا؛ یہ سب اسی نام نہاد عقلیت (Rationality) کا کڑوا پھل ہیں جس میں طے پایا تھا کہ "ہدف و مقصد تک پہنچنے کے لئے اخلاقیات کو قربان کیا جا سکتا ہے اور انسانوں کو صرف اعداد اور ہندسوں کے طور پر مغربی لبرل نظام کے ذیل میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
کل کی انسان سوزی کی بھٹیاں (Crematoriums) اور آج کی تباہ کن پابندیاں، جو عام لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، دونوں ایک ہی گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں: "اپنی بقاء کے لئے دوسروں کو حذف کرنا۔"
زوال اخلاق کا یہ المیہ، آج غزہ کے کھنڈرات میں عروج پر ہے۔ جو کچھ گذشتہ دو برسوں میں فلسطین میں واقع ہؤا، ایک امتحان تھا جس نے تمدن و تہذیب کے دعویداروں کو بے نقاب کر دیا۔ ہزاروں نہتے بچوں اور دفاع سے محروم عورتوں کے قتل عام کے تئیں مغرب کی ہمہ جہت حمایت، اور اس المناک اور ہلاکت خیز نسل کشی کے سامنے مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے سے معلوم ہؤا کہ "انسانی حقوق" جیسے تصورات دوہرے معیاروں پر استوار ہیں۔ اس عالمی ترتیب کی نگاہ میں، انسانوں کے دو قسمیں ہیں: "قابل قدر" اور "ناقابل قدر"، جہاں جہاں مغربی ایشیا یا لاطینی امریکی عوام کا خون نیلی آنکھوں والے گوروں کے برابر نہیں ہيں اور ان علاقوں کے عوام کے مفادات مغرب کے سیاسی مفادات کے برابر نہیں ہیں۔
وینزویلا اور غزہ کا قصہ، ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؛ ایک میں ایک خودمختار راہنما کے سیاسی اور فزیکی قتل اور ایک دوسرا ایک قوم کو فزیکی طور پر حذف کرنے کی کوشش؛ دونوں ایک ہی پالیسی کو نمایاں کرتے ہیں، جس کو مفکرین نے "ایک طاقت کی ہلاکت خیز پالیسی" کا نام دیا ہے؛ ایسی طاقت جو دوسروں کی حیات و ممات کا حق اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔
بالآخر، یہ تمام واقعات ـ امریکی کی سراسر جنگ سے بھرپور تاریخ اور مغرب میں تشدد کی جڑوں سے لے کر مادورو کے مسئلے میں اعلانیہ ڈاکہ زنی اور غزہ میں انسانی المیے تک ـ دنیا والوں کے لئے ایک واضح پیغام ارسال کر رہے ہیں: سابقہ علامتی اور اخلاقی عالمی ترتیب [World Order] شکست و ریخت سے دوچار ہو گئی ہیں اور بین الاقوامی ڈھانچوں سے مزید کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی، ایسے ڈھانچے جو طاقتوروں اور جابروں کے ہاتھوں کا بازیچہ بن گئے ہیں۔ مغرب نے واضح کیا ہے کہ وہ جمہوریت کے جس مضبوط قلعے کا وعدہ دے رہا تھا، انتہائی سست اور کانپتی کھسکتی بنیادوں پر استوار ہؤا تھا۔
آج دنیا کی بیدار قوموں نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا ہے کہ سلامتی اور عزت و عظمت اجنبیوں کی ایک مسکراہٹ کی بھیک مانگنے سے نہیں، بلکہ اندرونی طاقت اور اپنے اصولوں پر استقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مفت کی مطلق العنانیت اوریکطرفہ طور پر جارحیت کرکے صحیح و سالم لوٹ جانے اور کوئی بھی قیمت ادا کئے بغیر قوموں اور ملکوں کو کچل دینے کا دور گذر چکا ہے؛ چنانچہ ظلم و جبر کہیں بھی سر اٹھا سکتا ہے لیکن جاری نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اس تشدد کی ننگی حقیقت نے بنی نوع انسان کے ضمیر کو جگا دیا ہے اور نئی اور منصفانہ عالمی ترتیب کے لئے راستہ ہموار ہو چکا ہے۔
نکتہ:
انسان سمجھ گیا ہے کہ اس پر دوسروں کے تسلط کا راز "موت کا خوف" تھا، حالانکہ مرنا تو سب کو ہے؛ اور استعماری طاقتوں کی پسپائی کا ایک اہم ـ اور شاید سب سے اہم ـ راز یہی ہے؛ نوآبادیاتی نظام نشانہ بننے والی قوموں میں خوف پھیلا کر تشکیل پایا تھا، اور جو قومیں نہیں ڈریں وہ سامراج کے قبضے سے محفوظ رہیں یہ وہ حقیقت ہے جس کو آج کا انسان بہت اچھی طرح سمجھتا ہے چنانچہ وہ آج موت سے نہيں ڈرتا اور جو موت سے نہيں ڈرتا اسے شکست دینا ممکن نہیں ہے، چنانچہ ظالموں کا یہ ہتھیار ایکسپائر ہو چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: امیرحسین سلطانی فعال رسانه
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ