8 جنوری 2026 - 11:38
رسول اللہ الاعظم(ص) انسانی اخلاق کا نمونہ، عالمی اتحاد کے داعی اور اسلامی تہذیب کے معمار

"پیامبر رحمت (صلی اللہ علیہ و آلہ)؛ عالمگیر مکالمے کا سرچشمہ" کے عنوان سے منعقد ہونے والے علمی سیمینار میں اساتذہ اور ماہرین نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں، اسلامی اور عالمگیر تہذیب کی تعمیر میں آپؑ کی مقام اور کردار، اور اس مقام و کردار کے استحکام میں میں اہل بیت (علیہم السلام) کے کردار کا جائزہ لیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، کل بدھ 8 جنوری 2026ع‍ کو رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے کے میلاد کی 15 سوویں سالگرہ کے موقع پر، "پیامبر رحمت (صلی اللہ علیہ و آلہ)؛ عالمگیر مکالمے کا سرچشمہ" کے عنوان سے ایک علمی سیمینار ـ حوزہ و یونیورسٹی کے اساتذہ کی موجودگی میں عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی میں، براہ راست اور ویبینار کی صورت میں ـ منعقد ہؤا جو کہ رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شخصیت کا تعارف کرانے والے کے لئے منعقد ہونے والے سلسلہ وار سیمیناروں میں سے ایک تھا۔

اس سیمینار میں امام خمینیؒ انسٹی ٹیوٹ کے استاد ڈاکٹر محمد لیگن ہاؤزن، انڈونیشیا کے مدارس مطہری کے مجموعے کے سربراہ، ڈاکٹر مفتاح فوزی رحمت اور امام خمینیؒ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبر حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حامد منتظری مقدم نے خطاب کیا۔ مقررین نے انسانی اخلاق کے فروغ، عالمگیر اتحاد اور اسلامی تہذیب کی تعمیر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقام اور کردار کا جائزہ لیا۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) عالمگیر مکالمے اور امتوں کے اتحاد کے نمونہ ہیں

انڈونیشیا کے مدارسِ مطہری کے مجموعے کے سربراہ ڈاکٹر مفتاح فوزی رحمت نے اپنے خطاب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو عالمگیر مکالمے کے نمونے اور مختلف امتوں کے اتحاد کا محور قرار دیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، خاص طور پر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پیغامات کے گہرے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی تعلیمات ان ممالک میں بخوبی منتقل ہوئی ہیں اور ان تعلیمات نے علاقوں کے بڑے علماء کے ذریعے لوگوں کی ثقافت اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔"

فوزی رحمت نے قرآن کریم کے دقیق اور درست ترجمے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا: "قرآن کی تفسیر اور ترجمے میں باریک بینی بہت زیادہ اہم ہے تاکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی تعلیمات کے درست اور گہرے تصورات صحیح طور پر منتقل ہوں اور مسلمانوں اور دیگر معاشروں کی اخلاقی اور سماجی رہنمائی درست طور پر انجام پائے۔"

انھوں نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے میلاد کی تقریبات کا بھی حوالہ دیا اور ذکر کیا اور کہا: "یہ تقریبات مختلف اسلامی ممالک، خاص طور پر انڈونیشیا میں، پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ساتھ اظہار محبت کے ایک موقع کے طور پر، اور اتحاد بین المسلمین کی تقویت کی غرض سے منعقد ہوتی ہیں۔

جہادِ تبیین، رسول اللہ(ص) کی تہذیب سازی کی بنیاد

امام خمینیؒ انسٹی ٹیوٹ کے استاد اور اس سیمینار کے دوسرے مقرر ڈاکٹر محمد لیگن ہاؤزن نے اپنے خطاب میں جہادِ تبیین کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی تہذیب سازی کے اہم اوزاروں میں سے ایک قرار دیا اور کہا: "پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جہادِ تبیین کے ذریعے دنیا میں اخلاقی، ثقافتی اور سماجی تہذیب کی بنیاد رکھی جس کے اثرات اب بھی مختلف معاشروں میں واضح ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا: "پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے دو بنیادی محوروں، ـ یعنی "امتِ واحدہ کی تشکیل" اور "ثقافتی و سماجی مزاحمت" کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جو سماجی انصاف اور یکجہتی پر مبنی تھا اور سابقہ معاشروں کے ڈھانچوں سے بالکل مختلف تھا۔"

لیگن ہاؤزن نے ظلم اور جہل کے خلاف مزاحمت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا: "پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی تہذیب سازی صرف سیاست یا معیشت تک محدود نہیں تھی، بلکہ ـ اخلاق و ثقافت سے لے کر سماجی یکجہتی اور تعلیم و تربیت تک ـ  زندگی کے تمام پہلوؤں، میں جلوہ گر ہوئی۔"

پیغمبرؐ کا مقام و مرتبت کو مستحکم کرنے میں اہل بیتؑ کا کردار

امام خمینیؒ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی رکن حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حامد منتظری مقدم نے اپنے خطاب میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے مقام کو برقرار رکھنے میں اہل بیت (علیہم السلام) کے کردار پر روشنی ڈالی اور زور دے کو کہا: "پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے وصال کے بعد، اہل بیت (علیہم السلام) کی مجاہدتوں نے اسلامی معاشرے میں آپؐ کے مقام کو مستحکم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔"

انھوں نے تشیّع پر ناروا الزامات اور اہل بیت (علیہم السلام) کے مقام کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پھیلانے کے حوالے سے کہا: "شیعہ نقطہ نظر میں، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہمیشہ دین اسلام کا محور ہیں اور اہل بیت علیہم السلام آپؐ کے مقام کی تکمیل کرنے والے محافظ ہیں۔"

حجۃ الاسلام منتظری مقدم نے ان ثقافتی اور سیاسی خطرات کا بھی ذکر کیا جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے وصال کے بعد آپؐ کے مقام پر وارد ہوئے اور کہا: "ائمۂ شیعہ (علیہم السلام) کی کوششوں اور مجاہدتوں کے ذریعے، پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا نام ان مشکل حالات میں زندہ اور مستحکم رہا جب آپؐ کے نام اور مقام کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا تھا۔"

انھوں نے آخر میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اہل بیت (علیہم السلام) کے درمیان جذباتی رشتے کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: "یہ رابطہ اور رشتہ ـ خاص طور پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور حضرت علی (علیہ السلام) کے باہمی تعلق میں، ـ امت اسلامی کی رہنمائی کے محور کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

واضح ذکر ہے کہ یہ علمی سیمینار عالمی اہل بیتؑ اسمبلی کی علمی و ثقافتی معاون شعبے کے 'مطالعات، تحقیقات و تحقیق دفتر'، بین الاقوامی خبر رساں ادارے "ابنا" اور المصطفیؑ شارٹ ٹرم ایجوکیشن سینٹر کے تعاون سے منعقد ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha