بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی شیخیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس بار یوکرین جنگ اور نیٹو کے کردار کے بارے میں اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ "امریکہ کی موجودگی اور طاقت روس کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔"
انھوں نے نیٹو رکن ممالک کی بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اتحادی ممالک کو فوجی بجٹ میں اضافہ کرنے اور اسے جی ڈی پی کے 5 فیصد تک لے جانے پر راضی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امریکہ نیٹو کا رکن نہ ہو تو روس اور چین اس کو سنگین خطرہ نہیں سمجھیں گے۔
ٹرمپ نے نے اس بات پر اصرار کیا کہ "بیجنگ اور ماسکو صرف امریکہ سے ڈرتے ہیں۔"
امریکی صدر نے کہا: "مجھے یقین نہیں ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک ضرورت کے وقت امریکہ کی مدد میں ثابت قدمی دکھائیں گے لیکن ان شکوک و شبہات کے باوجود، امریکہ ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑا رہے گا، چاہے یہ اتحاد مشکل حالات میں امریکہ کی حمایت نہ بھی کرے!
واضح رہے کہ ٹرمپ کے یہ نعرے گذشتہ ایک سال کے دوران یورپ کے بارے میں ان کے عجیب و غریب خیالات کے بالکل برعکس ہیں۔
یہ بیان ایسے حال میں سامنے آیا ہے کہ نیٹو کے مستقبل، رکن ممالک کی دفاعی اخراجات کی ذمہ داریوں اور یورپ کی سلامتی میں امریکہ کے کردار پر متنازعہ بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری ہے اور ٹرمپ نے اس عسکری اتحاد میں موجودہ گہری خلیجوں کی طرف ایک بار پھر توجہ مبذول کرائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ