بین الاقوامی ال بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مصری خبری پلیٹ فارم 'نیوز روم' کے مطابق، دبئی اور شمالی امارات میں سعودی عرب کے قونصل جنرل 'عبداللہ بن منصور المطوع' نے سوشل نیٹ ورک 'ایکس' کے ذریعے ایک پیغام میں امارات سے وداع کرتے ہوئے لکھا: "آج جانے کا وقت آگیا ہے۔ میں اپنا دوسرا گھر، یعنی دبئی اور شمالی امارات میں قونصلیٹ جنرل کو، جنوری 2021 سے شروع ہونے والے کام اور خدمت کے بعد، چھوڑ رہا ہوں۔"
• علاقائی واقعات پرامیر قطر کے سعودی ولی عہد اور اماراتی صدر سے رابطے
امیر قطر 'تمیم بن حمد آل ثانی' نے دو علیحدہ فون کالز میں سعودی ولی عہد 'محمد بن سلمان' اور اماراتی صدر 'محمد بن زاید' سے تازہ ترین علاقائی واقعات اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر ایجنسی (واس) نے اطلاع دی کہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے جمعرات کو قطر کے امیر سے فون کال وصول کی۔
اس کال میں فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے کے تعلقات اور ان کو مضبوط بنانے اور فروغ دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا اور علاقائی اور بین الاقوامی واقعات پر بات چیت کی۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر ایجنسی (وام) نے بھی اعلان کیا کہ اماراتی صدر محمد بن زاید آل نہیان نے قطر کے امیر سے فون کال وصول کی ہے اور فریقین نے دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے اور مشترکہ تعاون کو دونوں ممالک اور ان کے عوام لئے فائدہ مند قرار دیا۔
اس رپورٹ کے مطابق، فریقین نے تازہ ترین علاقائی صورت حال اور مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
• ابوظہبی اور ریاض کے درمیان کشیدگی
یمن کی المکلا بندرگاہ پر اتارے جانے والے اماراتی فوجی سازوسامان پر سعودی عرب کے فضائی حملے کے بعد امارات - سعودی کشیدگی میں شدید اضافہ ہؤا ہے۔
اس سے قبل رویٹرز نے رپورٹ دی تھی کہ سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی بڑھنے اور ریاض کی طرف سے فوری طور پر اماراتی فوجی دستوں کی واپسی کی درخواست کے بعد، ابوظہبی نے اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنے تمام باقی ماندہ دستے نکال لے گا۔
یہ پیشرفت خلیجی ممالک کے درمیان اب تک کی سب سے زیادہ سخت کشیدگی اور ان کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج میں مزید اضافے کا سبب بنی ہے۔
حالیہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سعودی اتحاد کی افواج نے جنوبی یمن کی بندرگاہ المکلا پر فضائی حملہ کیا۔ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کا نشانہ امارات سے منسلک ہتھیاروں کی ایک کھیپ تھی۔ تاہم، امارات نے دعوی کیا کہ ہتھیاروں یہ کھیپیں یمن کےاپنے فوجی دستوں کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں!!
رویٹرز کے مطابق، خلیج فارس کے یہ دو بڑے ممالک، جو کبھی خطے کی سلامتی کے دوہرے ستون سمجھے جاتے تھے، حالیہ برسوں میں تیل کے کوٹے سے لے کر جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ تک مختلف مسائل میں مفادات کے ٹکراؤ دکھائی دے رہا ہے۔
اسی تناظر میں، اماراتی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے یمن میں اپنے [نام نہاد] انسداد دہشت گردی یونٹس کا مشن 'رضاکارانہ طور پر!' ختم کر دیا ہے؛ اور باقی ماندہ مشن صرف 'متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں، دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے فریم ورک کے اندر، ماہر عملے' تک محدود ہے۔ [یعنی انخلاء پھر بھی نہیں ہوگا کیونکہ آقا ایسا نہیں چاہتے!]
اس کے برعکس، سعودی عرب نے امارات پر الزام لگایا ہے کہ اس نے یمنی علیحدگی پسند گروہ 'جنوبی عبوری کونسل' (STC) کی حمایت کی ہے اور اسے تنازعات کو ہوا دینے اور سعودی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے پر اکسایا ہے۔ ریاض نے اس معاملے کو اپنی سلامتی کی 'سرخ لکیر' قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امارات اس کونسل کی کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی حمایت مکمل طور پر بند کر دے۔
سعودی عرب سے وابستہ یمنی 'صدارتی قیادت کونسل' (Presidential Leadership Council [PLC]) کے سربراہ 'رشاد العلیمی' نے بھی اماراتی فوجی دستوں کو یمنی سرزمین چھوڑنے کے لئے 24 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔
سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلاف اس وقت عروج پر پہنچا جب جنوبی انتقالی کونسل نے حال ہی میں سعودی حمایت یافتہ افواج کے خلاف حملے شروع کر دیئے اور دعویٰ کیا کہ اس نے صوبہ حضر موت سمیت جنوبی یمن کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
لگتا ہے کہ ان کشیدگیوں کا اثر یمن سے باہر بھی محسوس کیا جائے گا۔ رویٹرز کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں تیل برآمد کرنے والے ممالک کے گروہ اوپیک کے کلیدی اداکار ہیں اور ان کے درمیان کوئی بھی اختلاف تیل کی پیداوار کے بارے میں اتفاق رائے کو متاثر کر سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ