بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بین الاقوامی سطح پر سب سے عجیب رشتوں میں سے ایک اسرائیل اور امریکہ کے باہم تعلق ہے جس پر ـ اپنی خصوصیات کی وجہ سے ہمیشہ ـ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ یہ بندھن خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ دونوں کے درمیان ـ امریکہ اور اس کے اتحادیوں جیسے جاپان، فلپائن، جنوبی کوریا اور نیٹو کے ارکان کے درمیان معاہدوں کی طرح ـ کوئی مشترکہ دفاعی معاہدہ نہیں ہیں۔
اسرائیل نیٹو سے باہر کلیدی اور "خصوصی مراعات یافتہ" اتحادیوں کی "محدود فہرست" میں سر فہرست ہے۔ یعنی، یہ ان ریاستوں میں سب سے پہلے نمبر پر ہے جو نہ صرف جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجیز تک رسائی رکھتے ہیں، بلکہ انہیں "خصوصی مالی امداد" اور قانونی اور ریگولیٹری سپورٹ بھی حاصل ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس امداد کا اب تک کا تخمینہ تقریباً 310 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔
امریکہ کے کچھ اتحادیوں کے برعکس، جو سیاسی رکاوٹوں کے بغیر مختلف ذرائع سے ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اسرائیل کا امریکہ پر انحصار تقریباً مطلق ہے جس کا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ آج دنیا میں برطانیہ، فرانس، روس یا چین سمیت ہتھیار بنانے والے بڑے ممالک میں سے کوئی بھی، اسرائیلی فوج کو ہتھیاروں کا اہم اور ضروری ذریعہ نہیں ہے اور ان میں سے کوئی بھی اسرائیل کے لئے امریکہ کی جگہ نہیں لے سکتا۔
سیاسی نقطہ نظر سے امریکی حمایت اسرائیل کے دائیں بازو کے لئے، "مستقل تحفہ" رہی ہے۔ اسرائیلی ریاست کے ایک سابق مشیر ڈینئیل لیوی (Daniel Levy) کا کہنا ہے کہ "اگر امریکی حمایت نہ ہوتی تو دائیں بازوں کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوتی۔"
سابق امریکی سینیٹر جیسی ہیلمس (Jesse Helms) نے سنہ 228ع میں اپنی موت سے پہلے، اس بات پر زور دیا کہا کہ سلامتی کے حوالے سے کمزور خطے میں اسرائیل کی 'فوجی موجودگی' اس ریاست کے لئے امریکی فوجی امداد پر اٹھنے والے اخراجات کا جواز جواز فراہم کرتی ہے"۔
جیسی ہیلمس نے کہا تھا کہ "اسرائیل درحقیقت مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہے"۔
امریکی قوانین اور اسرائیل کو استثنیٰ
واشنگٹن نے تل ابیب کے قوانین کو ہمیشہ معطل رکھا ہے تاکہ اسلحے کی ترسیل سیاسی یا اخلاقی روک رکاوٹ کے بغیر جاری رہ سکے۔
"لیہی ایکٹ" (Leahy Law)، جسے سینیٹر پیٹرک لیہی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، دو قانونی دفعات پر مشتمل ہے، جن میں سے ایک محکمہ خارجہ کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے اور دوسرا وزارت جنگ کے ذریعے۔ یہ قانون انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی ملزم غیر ملکی سیکورٹی فورسز کے لئے امریکی سیکیورٹی امداد کو محدود کر دیتا ہے۔ ان قوانین کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے امریکہ کی بالواسطہ حمایت کو روک دینا ہے۔
کچھ قانونی ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے لیہی ایکٹ کا اطلاق اسرائیل پر اس طرح نہیں کیا جس طرح مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر ہوتا ہے۔ پیٹرک لیہی نے نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو فوجی امداد جاری رکھ کر قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
"معیاری فوجی برتری" اسرائیل کے لئے امریکی فوجی امداد کا بنیادی ستون ہے اور اسے 2008 میں امریکی قانون میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا تھا۔ قانون کے تحت، ریاستہائے متحدہ اسرائیل کی "کسی ایک ریاست یا ریاستوں کے اتحاد یا غیر ریاستی اداکاروں کے کسی بھی قابل اعتماد روایتی فوجی خطرے کو شکست دینے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔"
2008 کا قانون ریاستہائے متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی مکمل فوجی برتری کو یقینی بنائے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں سے اس [اسرائیلی] برتری کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ بہت سے معاملات میں، قانون کے مطابق، امریکہ اسرائیل کو ایسے ہتھیار فراہم کرنا پڑتے ہیں جو کمیوں اور کمزوریوں کو پورا کرے، اسرائیل سب سے اوپر رہے، اسرائیل کو خطے میں جدید ترین امریکی ہتھیار اور فوجی نظام، جیسے F-35 اسٹیلتھ فائٹرز سے لیس رکھے، 2025 تک ان فائٹر جیٹس کی تعداد 50 میں سے 42 تک پہنچ گئی۔
بائیڈن انتظامیہ نے بھی غیرمتزلزل طور پر اسرائیل کی حمایت کی، یہاں تک کہ جب بین الاقوامی فوجداری عدالت کے تفتیش کاروں نے نیتن یاہو اور گالانت کو فلسطین میں جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرانے کے بعد ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تو وائٹ ہاؤس نے عدالت کے فیصلے کو ’شرمناک‘ اور ’بالکل غلط‘ قرار دیا۔
تاہم، حالیہ برسوں میں، سیاسی اشرافیہ اور مستقبل شناس ماہرین کے درمیان اسرائیل کے لئے امریکی امداد پر نظرثانی کی ضرورت کے بارے میں بڑے پیمانے پر بحث چھڑ گئی ہے، جس میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ "اسرائیل اب دولت مند ہے، فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا میں 14 ویں نمبر پر ہے، اس کی فوج مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ افواج میں سے ایک ہے؛ 1970 کے عشرے میں، سرد جنگ کے دور کے برعکس اسرائیل ـ جس کے دوران بڑے پیمانے پر امریکی امداد اس ریاست کی طرف جاری رہی ـ یہ جدید ریاست اب اپنی سلامتی کا تحفظ خود ہی، کر سکتی ہے!
کونسل آن فارن ریلیشنز کے ایک سینئر فیلو سٹیفن اے کُک نے مئی 2024 میں کہا تھا کہ "امریکی فوجی امداد کو ایک دہائی کے دوران مرحلہ وار انداز سے بند ہونا چاہئے اور اس کی جگہ دو طرفہ سکیورٹی تعاون کے معاہدوں کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے جس سے دونوں فریقوں کو فائدہ ہو گا۔"
اسرائیل میں سابق امریکی سفیر مارٹن ایس انڈیک نے بھی ایکس نیٹ ورک پر لکھا: "اس سال اسرائیل کی 75 ویں سالگرہ ہے؛ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔"
دوسروں کا خیال ہے کہ امریکی امداد نے دراصل اسرائیل کے دفاعی صنعتی شعبے کو کمزور کر رہی ہے اور امریکی دفاعی ٹھیکیداروں کے لئے زیادہ یقینی آمدنی فراہم کرتی ہے۔
اگرچہ کچھ اسرائیلی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت بعض اوقات آزادانہ طور پر کام کرتی ہے، جسے اسرائیلی "کچھ ہی" اور بہت کم سمجھتے ہیں، امریکی پالیسی 1970 اور 1980 کی دہائیوں سے اور اس سے بھی پہلے کے اسرائیلی ملکی سلامتی کے اہم فیصلوں کا بنیادی عنصر رہی ہے اور تمام مہم جوئیاں امریکی پالیسی کی خاطر انجام کو پہنچی ہیں۔
امریکی عوامی رائے میں تبدیلی اور اسرائیل کے لئے حمایت میں کمی
سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے نوجوان امریکیوں میں اسرائیل کی حمایت میں کمی کے سنگین اشاریے ٹبپ کر دیئے ہیں۔ ایک ایسا امریکی معاشرتی طبقہ جو آج عام امریکیوں کے مقابلے میں، اسرائیل کے لئے کم ہمدردی رکھتا ہے۔ رویوں میں اس تبدیلی کی بڑی وجہ مسئلۂ فلسطین ہے۔ درمیانی مدت اور طویل مدت میں اس رجحان کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی نوجوان، جن کا انتخابی وزن نمایاں ہے، آہستہ آہستہ بااثر عہدے حاصل کرنے جا رہے ہیں۔
بالکل اسی اثناء میں نوجوان امریکی یہودیوں میں بھی اسی طرح کا مسئلہ ابھر آنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہودیوں کے نوجوانوں کا [یہودی تشخص] کا جذبہ، نیز اسرائیل کے لئے ان کی ہمدردی کی سطح، بڑی عمر کے یہودیوں کے مقابلے میں، بہت کمزور ہو گئی ہے؛ یہ صورتحال اور پھر یہودیوں کی شرح پیدائش میں شدید کمی، مخلوط شادیوں اور امریکی معاشرے میں مکمل سماجی انضمام، وہ عوامل ہیں جو امریکی یہودی برادری کی طاقت کو کمزور کر دیا ہے؛ ایک ایسی برادری جسے امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے؛ ایسا ستون جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
اس صورتحال کو اسرائیل کے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سابق نائب مشیر "چارلس ڈی. چک فریلیچ (Charles D. (Chuck) Freilich)" نے نیوز ویک میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
اس حوالے سے عوامی رائے شماریوں کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے لئے، امریکی عوامی حمایت کم ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں، گذشتہ سال مارچ میں گیلپ پول کے ایک سروے سے عیاں ہؤا کہ صرف 46 فیصد امریکی اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، جو کہ سالانہ گیلپ کے 25 سالہ مانیٹرنگ کے ریکارڈ میں سب سے کم ہے۔ اس کے برعکس، 33 فیصد امریکیوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، جو اس اشارے کے لئے تصدیق شدہ سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔ دوسرے پول بھی اسی طرح کے نتائج پر پہنچے ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر کو ملنے والے نتائج میں ایک یہ بھی تھا کہ 2022 اور 2025 کے درمیان اسرائیل کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والے ریپبلکنز کا حصہ 27 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد ہو گیا۔ اس تبدیلی کا اصل محرک 49 سال سے کم عمر کے ریپبلکن تھے۔
بی بی سی نیٹ ورک نے بھی رواں سال مئی میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل کے اندرونی حلقوں کے کچھ حصے اس چیلنج کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے معرکۂ "طوفان الاقصیٰ" سے چند ماہ قبل، سابق اسرائیلی جنرل اور ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ تامیر ہیمین (Tamir Hayman) نے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات میں ظاہر ہونے والی شگافیں پڑنے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
تل ابیب میں انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز نے بھی گذشتہ مارچ میں ایک رپورٹ میں دلیل دی تھی کہ امریکی رائے عامہ اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے "خطرے کے علاقے (Danger Zone)" میں داخل ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مصنف تھیوڈور ساسن (Theodore Sasson) نے کہا، "امریکی حمایت میں کمی کے خطرات کو کم نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر چونکہ یہ رجحان گہرے اور طویل مدتی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔" ساسن کا کہنا تھا کہ:
"اسرائیل کو مستقبل قریب میں دوسری کسی بڑی عالمی طاقت کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔"
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ "جو لوگ تعلقات میں کشیدگی کی علامتوں پر نظر رکھتے ہیں، وہ نوجوان امریکیوں کے خیالات پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ اس نوجوان طبقے میں، 7 اکتوبر کے بعد سے، اپنے رویوں میں سب سے زیادہ تبدیلی دکھائی ہے۔"
تھیوڈور ساسن نے کہا ہے: "یہ ٹک ٹاک نسل اپنی زیادہ تر جنگی خبریں سوشل میڈیا سے حاصل کرتی ہے۔ اسرائیل کی غزہ جارحیت سے شہریوں کے بڑھتے ہوئے قتل عام نے امریکہ میں ـ اسرائیل کے لئے ـ نوجوان ڈیموکریٹس اور لبرل طبقوں کی حمایت میں واضح طور پر کمی کر دی ہے۔"
اس وقت، رائے عامہ میں یہ تبدیلیاں، فی الحال امریکی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا باعث نہیں بن سکی ہیں۔ امریکی رائے عامہ کی اسرائیل سے کچھ دوری کے باوجود، کانگریس میں دونوں جماعتوں کے زیادہ تر منتخب سیاستدان اسرائیل کے ساتھ مضبوط اتحاد برقرار پر قائم ہيں؛ [تاہم ناراض نوجوانوں کو آخرکار ان بڑی عمر کے سیاستدانوں کی جگہ لینی ہے]۔
آرڈن اسٹریٹجیز (Arden Strategies) میں دفاع اور سلامتی کی سربراہ کیرن وان ہپل (Karin von Hippel) نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کے بارے میں امریکیوں کی رائے میں آبادیاتی شگاف کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ دراڑ امریکی کانگریس تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔
تاہم، وان ہپل کو شک ہے کہ فی الحال یہ رجحان پالیسی کی سطح پر بنیادی تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈیموکریٹ پارٹی کی سماجی بنیاد کے بدلتے ہوئے رویوں کے باوجود، فی الوقت، پارٹی کی بہت سی اہم شخصیات جو 2028 میں صدر کے لئے انتخاب لڑ سکتی ہیں "روایتی طور پر اسرائیل کے حامی ہیں"۔
تاہم، مروجہ نظریہ یہ ہے کہ اگر امریکی رائے عامہ میں یہ تبدیلی پائیدار، طویل مدتی اور مجتمع (Accumulative) ہو، تو یہ بالآخر اسرائیل کے لئے عملی حمایت میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، ایسا عمل جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی اور فوجی امداد میں کمی کا باعث بنے گا، اور اسرائیل کے لئے امریکی حمایت کو بہت نچلی سطح تک لےجائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رضا دہقانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ