30 اگست 2025 - 16:21
مقبوضہ فلسطین: 'گیدئون کے رتھ' کے پھیے غزّہ کی دلدل میں پھنس گئے / غزہ تر نوالہ نہیں ہے + ایک نکتہ

گیدئون کے رتھ کے عملے کا مقصد حماس کو شکست دینا اور غزّہ پر قبضہ کرنا تھا۔ لیکن 3 ماہ کی جنگ کے بعد، اسرائیلیوں کے اپنے اعتراف کے مطابق، وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے، اور اب "گیدئون کے رتھ 2" کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ / چار صہیونیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد فی الحال صہیونیوں کو کاروائی جاری رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || 4 مئی 2025 کو، صہیونی ریاست نے "گیدئون کے رتھ" کے نام سے غزّہ پر قبضے کی مہم  منصوبہ بندی کی۔ اے بی سی نیوز کی 19 مئی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزّہ پر زمینی حملہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

ریاست کی فوج نے ایک بیان میں کہا: "اسرائیلی افواج نے گیدئون کے رتھ حملے کے ایک حصے کے طور پر شمالی اور جنوبی غزّہ میں ایک وسیع پیمانے پر زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حماس کے 670 سے زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔"

مقبوضہ فلسطین: 'گیدئون کے رتھ' کے پھیے غزّہ کی دلدل میں پھنس گئے / غزہ تر نوالہ نہیں ہے

وہ جرم جس نے یورپ کو بھی بولنے پر مجبور کیا

اس کارروائی میں اسرائیلی فوج کے جرائم کی سطح، بے مثال تھی؛ یہاں تک کہ اس نے اپنے مستقل حامیوں یعنی برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بھی زبانی احتجاج کیا۔ امریکی خبررساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ان تینوں ممالک نے دھمکی دی تھی کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں گے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس کارروائی کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملے صرف چند دنوں میں سینکڑوں ہلاکتوں کا باعث ہوئے۔

مقبوضہ فلسطین: 'گیدئون کے رتھ' کے پھیے غزّہ کی دلدل میں پھنس گئے / غزہ تر نوالہ نہیں ہے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش، نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ: فلسطینیوں کی حالت "بیان سے باہر، المناک سے بھی زیادہ اور غیر انسانی سے بھی بڑھ کر" ہے۔

فلسطینی بچوں کو قحط کے ذریعے قتل عام کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ کے بعد، اسرائیل مجبور ہوا کہ وہ غزہ میں ایک محدود مقدار میں سامان داخل ہونے کی اجازت دے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے اس سامان کو "محدود" اور "اس شدید ضرورت کے سمندر میں ایک قطرہ" قرار دیا۔

گیڈیئن کارروائی میں جرائم کی سطح اس قدر تھی کہ نیتن یاہو نے کہا کہ "اگر وہ اس علاقے میں اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا تو وہ اپنے قریبی اتحادیوں، بشمول ریاستہائے متحدہ، کی حمایت کھو سکتا ہے۔"

آپریشن 'گیدِیئن کے رتھ' کا کیا ہَدَف ہے؟

اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق، عملِیات 'گیدِیئن کے رتھ' کا ہَدَف یہ ہے: "غزہ کی جنگ کے تمام مقاصد حاصِل کرنا، جِس میں حماس کے خاتمے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔" نیز نیتن یاہو نے کہا: "میرا اِرادہ ہے کہ پوری غزہ پٹی پر کنٹرول حاصِل کروں۔"

اگست کے آغاز میں، اخبار 'ٹائمز آف اسرائیل' نے رپورٹ دی کہ: "'گیدِیئن کے رتھ' نامی کاروائی تین ماہ کے بعد اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے، گوکہ وعدہ کیے گئے مقاصد حاصِل نہیں ہو سکے ہیں۔"

مقبوضہ فلسطین: 'گیدئون کے رتھ' کے پھیے غزّہ کی دلدل میں پھنس گئے / غزہ تر نوالہ نہیں ہے

اِس صہیونی اخبار نے اعتراف کیا کہ: "اسرائیل غزہ پر قبضہ کرنے، فلسطینی آبادی کو جنوب کی طرف منتقِل کرنے، حماس کے کنٹرول کو روکنے اور سب سے بڑھ کر، قیدیوں کو رہا کرانے کے اپنے ہَدَف میں شکست کھا گیا۔"

اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جب اسرائیلی فوج نے مئی میں حملہ شروع کیا تھا، تو وزیر جنگ اسرائیل کاٹز اور دیگر اسرائیلی اہلکاروں نے کہا تھا کہ یہ کاروائی "غزہ کو فتح کرنے اور علاقے پر قابض رہنے، فلسطینی شہری آبادی کو پٹی کے جنوب کی طرف منتقِل کرنے اور حماس پر حملہ کرنے کے لئے تھی۔" اُنہوں نے کہا تھا کہ 'گیدِیئن کے رتھ' کے بنیادی مقاصد "غزہ میں حماس کو شکست دینا اور تمام قیدیوں کو رہا کرانا" تھا۔ لیکِن اِن میں سے کوئی بھی ہَدَف یا مقصد پورا نہیں ہؤا ہے اور فوج اپنی نفری واپس بلا رہی ہے۔

گیڈیئن 1 کی شکست، گیڈیئن 2 کا آغاز

عملِیات 'گیدِیئن کے رتھ' کی شکست کے باوجود، تھوڑے سے عرصے کے بعد، صہیونی ریاست نے آپریشن 'گیدِیئن کے رتھ 2' کا آغاز کیا ہے۔ اسرائیلی خبررساں ادارے 'i24 نیوز' کی 20 اگست کی رپورٹ کے مطابق، اس کاروائی کا ہدف وہی ہے جو پچھلی آپریشن کا تھا: "غزہ پر مکمل قبضے کے ساتھ ساتھ حماس کا مکمل خاتمہ۔"

مقبوضہ فلسطین: 'گیدئون کے رتھ' کے پھیے غزّہ کی دلدل میں پھنس گئے / غزہ تر نوالہ نہیں ہے

اسرائیلی فوج نے اس کاروائی کے لئے اپنے 60 ہزار ریزرو فوجی طلب کر لئے ہیں۔ پوری کاروائی میں اسرائیلی فوج کی پانچ ڈویژن شامل ہیں۔ 'گیوتی' بریگیڈ شمال میں غزہ شہر کے قریب جبالیا گاؤں میں داخل ہو چکی ہے، اور 'ناہل' بریگیڈ جنوب میں زیتون کے علاقے میں کاروائی کاروائی کر رہا ہے۔

اخباری اور تجزیاتی ویب سائٹ 'نیو عرب' کی رپورٹ کے مطابق، غزہ شہر پر اسرائیلی حملوں میں شدت اور 'گیدِیئن کے رتھ 2' کے عنوان سے ایک نئی وسیع فوجی کاروائی کے اعلان کے باوجود، ہزاروں فلسطینی اپنے گھر چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔ غزہ کے باشندے غزہ کہتے ہیں: "اسرائیل نے پوری غزہ پٹی کو قتل گاہ بنا دیا ہے اور موت ہر جگہ موجزن ہے۔ ہمارے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم اپنی زمین پر مرنے کو ترجیح دیتے ہیں بجائے اس کے کہ بے گھر اور ذلیل ہوں۔"

مقبوضہ فلسطین: 'گیدئون کے رتھ' کے پھیے غزّہ کی دلدل میں پھنس گئے / غزہ تر نوالہ نہیں ہے

گیڈیئن 2 کا نتیجہ کیا ہوگا؟

اسرائیلی وزیر جنگ نے زور دے کر کہا ہے کہ آپریشن کا ہدف غزہ پر مکمل قبضہ ہے۔ 7 اکتوبر سے، نیتن یاہو نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ایک بنیادی مقصد ہے: حماس کی مکمل تباہی اور خاتمہ ہے۔

لیکن ابھی تک، یہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا ہے، اور حماس کی افواج فی الحال تقریباً ویسی ہی بتائی جاتی ہیں جو 7 اکتوبر سے پہلے تھیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، 2025 کے اوائل میں حماس کے تقریباً 23,000 ارکان تھے۔ یہ تعداد تقریباً 7 اکتوبر 2023 سے پہلے حماس کے حجم کے بارے میں اسرائیل کے اندازوں کے برابر ہے۔

اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ یہ ایک نظریہ ہے اور یہ اس نظریے کے تحت نئے ارکان کو بھرتی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، گذشتہ دو سالوں میں ہزاروں افراد کے قتل کے باوجود، حماس کی افواج تعداد کے لحاظ سے عملی طور پر برقرار ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر فلسطینی حماس میں شامل ہو چکے ہیں۔

سرکاری اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے اس جنگ کے دوران تقریباً 60 ہزار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے؛ لیکن غیر سرکاری رپورٹوں میں فلسطینی شہداء کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار بتائی گئی ہے۔ لیکن اسرائیل اور نیتن یاہو اپنے قیدیوں کو رہا کرانے میں کامیاب نہیں ہوئے، چہ جائے کہ حماس کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکا ہو۔

البتہ واضح رہے  آپریشن 'گیدِیئن کے رتھ 2' غزہ کے عوام ایک بڑا قتل عام متوقع ہے؛ یوں ایک طرف سے یہ قتل عام، دوسری طرف سے مصنوعی قحط اور جبری بھکمری اور 'خوراک کے ذریعے قتل عام' سب مل کر اسرائیل کے 77 جرائم میں، عدیم المثال ترین جرم اور بے بے شرمی کا نیا ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔

البتہ، واضح رہے کہ آپریشن 'گیدِیئن کے رتھ 2' کے نتیجے میں غزہ کے لوگوں کے قتلِ عام کی ایک بہت بڑی لہر راستے میں ہے، اور یہ معاملہ شدید قحط کے ساتھ ساتھ خوراک کے ذریعے لوگوں کے  قتلِ عام نے مل کر اسرائیل کو اپنے جرائم میں تاریخ کے سطح پر ایک بے مثال ریکارڈ درج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

نکتہ: غزہ تر نوالہ نہیں ہے

صہیونی بڑی تسلی سے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہے ہیں کیونکہ انہیں مغرب سے تو حمایت حاصل ہی ہے، عرب ممالک بھی تو مغرب کے پیروکار بن کر وہی کچھ کر رہے ہیں جو مغرب چاہتا یا کرتا ہے، اور مسلمان بھی فلسطین کا معاملہ اپنا معاملہ قرار دینے سے گریزاں ہیں اور اس روش کو اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں، اور یوں صہیونی ریاست کو بالکل آزآدی حاصل ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو قتل کرے، ویران کرے اور تباہ و برباد کرکے عوام کو نقل مکانی پر مجبور کر دے اور فلسطین کو فلسطینیوں سے خالی کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھا دے۔ لیکن عربوں اور مسلمانوں کی بے حسی یا گماشتگی اور مغرب کی مکمل حمایت کے باوجود، یہ امر قابل ذکر ہے کہ صہیونی دو سال کے عرصے سے غزہ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ناکام رہے ہیں، انہوں نے غزہ کی تباہی کے لئے ہر وہ ذریعہ استعمال کیا ہے جس کا استعمال ممکن تھا چنانچہ غزہ 'تر نوالہ' نہیں ہے اور فلسطینی مجاہدین عربوں اور مسلمانوں سے مایوس ہوکر بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں لڑ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ صہیونیوں کی طرف سے آپریشن 'گیدِیئن کے رتھ 2' کے اعلان کے بعد نہ صرف فکرمند نہیں ہیں بلکہ انہیں خوشی ہے کہ '''زیادہ صہیونی نفری آئے گی تو انہیں زیادہ سے زیادہ صہیونی فوجی جہنم واصل کرنے یا پکڑنے کے مواقع ملیں گے''' اور ہاں اس کاروائی کے پہلے ہی دنوں میں انہوں نے صہیونیوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور کم از کم 4 صہیونی فوجی پکڑ لیئے ہیں۔،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha