بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، غزہ کی جانب سب سے بڑے انسان دوست بحری بیڑے کے حرکت کے آستہ پر، دنیا کے 44 ممالک کے سینکڑوں کارکنان، جن میں گریٹا تھنبرگ (Greta Thunberg)اور ماریانا مورٹاگوا (Mariana Mortágua) جیسی معروف شخصیات بھی شامل ہیں، نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالیں تاکہ اس بحری بیڑے کو غزہ تک پہنچنے اور گذرنے کی اجازت دی جائے۔
اخبار 'العربی' نے رپورٹ دی ہے کہ "یہ عظیم قافلہ ـ جسے 'عالمی بیڑے' کے نام سے جانا جاتا ہے، ـ اتوار کو ہسپانوی بندرگاہوں سے محصور غزہ کی پٹی کے لئے انسانی امداد لے جانے والی درجنوں کشتیاں لے کر روانہ ہونے والا ہے۔ یہ غزہ کی پٹی پر 2007ع سے مسلط کردہ ناکہ بندی توڑنے کی 38ویں بین الاقوامی کوشش ہے۔
بارسلونا میں رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس تحریک کے منتظمین میں سے ایک 'سیف ابو کشک' نے کہا، "اب سیاست دانوں کی باری ہے کہ وہ انسانی حقوق کے دفاع کے لئے میدان میں آئیں اور اس فلوٹیلا کے لئے محفوظ راستے کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔"
'صُمود فلوٹیلا' حرکت کرے گا: اسپین سے 31 اگست کو اور تیونس سے 4 ستمبر کو۔ یہ اتحاد بیڑے اور آزادی فلوٹیلا پر اور عالمی تحریک برائے غزہ، کاروانِ صُمود اور ملائیشیائی گروپ 'صُمود نوسانتارا' پر مشتمل ہے اور اس میں تقریباً 50 ممالک کے ہزاروں کارکنان شامل ہیں۔
اسی دوران، غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ صرف پچھلے 24 گھنٹوں میں، دو بچوں سمیت 5 افراد بھوک کی وجہ سے جان بحق ہو گئے ہیں۔ غزہ میں قحط اور غذائی قلت کا شکار ہونے والوں کی تعداد 322 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 121 بچے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اپنی بے بسی کے باوجود باضابطہ طور پر غزہ میں حالتِ قحط کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ 500000 لاکھ افراد تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
"حنظلہ" نام جہاز جو محاصرہ توڑنے کی پچھلی کوشش میں شامل تھا، غزہ کے 70 میل کے فاصلے تک پہنچا تھا یہاں تک کہ اسرائیلی فوج نے اسے روک نہیں دیا۔ یہ فاصلہ 2010 میں "بلیو مرمرہ" جہاز سے زیادہ ہے جس کو 72 میل کے فاصلے پر روکا گیا تھا جس کے نتیجے میں 9 ترک کارکن شہید ہو گئے تھے۔
کارکنوں نے اس اقدام کو "قبضے کے خلاف انسانی فریاد" قرار دیا ہے اور انہیں امید ہے کہ غزہ کے عوام کی آواز ایک بار پھر دنیا میں گونجے گی۔
مراکشی کارکن احمد ویحمان، جو "عالمی صمود بیڑے" میں شامل ہیں، نے جمعرات کو اس بیڑے کو "ایک مشترکہ انسانی فریاد" قرار دیا؛ اسرائیلی غاصب فوج کے نسل کشی کی مذمت اور جارحیت روکنے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کے مطالبے کے لئے ایک فریاد۔
ویحمان، جو "مراکشی تعلقات کی معمول سازی سے نمٹنے کے مرکز" (غیر سرکاری ادارہ) کی ریاست کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں اور "قومی عمل برائے فلسطین، گروپ" (فلسطین کی حمایت کرنے والے قانونی، سیاسی اور پیشہ ورانہ اداروں پر مشتمل اتحاد) کے قومی سیکریٹریٹ کے رکن ہیں، نے کہا: "یہ اقدام (عالمی صُمود بیڑے کی روانگی) محض ایک بحری سفر نہیں ہے، بلکہ مختلف قومیتوں، مذاہب اور نسلوں کے وفود کی طرف سے ایک مشترکہ انسانی فریاد ہے؛ اس نسل کشی کی مذمت کے لئے جو صہیونی ریاست کی طرف سے ریاستہائے متحدہ اور مغربی طاقتوں کی حمایت سے کی جا رہی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ