15 جون 2009 - 19:30

وقت آگیا ہے کہ قوم اور ادارے دہشت گردی کیخلاف جہاد کریں/ ہم وطنوں کو ہلاک وزخمی کرنے والے ملک کے دشمن ہیں۔

راولپنڈی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ10 اکتوبر کو دن گیارہ بجکر30 منٹ پر سفید کار میں سوار فوجی وردی پہنے ہوئے10 دہشت گردوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کر دیا۔

مسلح افراد کے حملے میں چھ فوجی اہل کار جاں بحق ہوئے تھے، فوری طور پر جی ایچ کیو کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا گیا ،42افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا ۔ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ریسکیو آپریشن'جانباز' شروع کیا گیا، آپریشن کے پہلے مرحلے میں30اہل کاروں کو بازیاب کرایا گیا جن میں3 اہل کار جاں بحق ہو گئے .

آپریشن کے دوسرے مرحلے میں عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو گرفتار کیا گیا، فوجی آپریشن کے دوران9شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، یرغمالیوں کو کھانا دینے کیلئے جانے والوں نے جاسوسی کے فرائض انجام دیئے.

دہشت گردوں نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی، اور ان کے پاس دھماکا خیز مواد بھی تھا،کمانڈوز کی کارروائی کے باعث شدت پسند دھماکا نہیں کرسکے.

فوجی وردی پہنے دہشت گرد تربیت یافتہ تھے اگر فوج بروقت کارروائی نہ کرتی تو بہت زیادہ نقصان ہوتا ۔

لگتا ہے کہ حکیم اللہ محسود زندہ ہے.

شدت پسندوں نے فون پر اپنے کمانڈر سے کامیابی کے لیے دعا کا کہا تھا.

یرغمالی بنانے والے دہشت گردوں کا رابطہ میڈیا اور جنوبی وزیرستان سے تھا.

آرمی چیف جی ایچ کیو میں موجود اور ساری صورت حال سے باخبر تھے.

وزیرستان میں جیش محمد اور لشکر جھنگوی کے شدت پسندوں کی موجودگی جب کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کے ایک چھوٹے گروہ کی موجودگی کی اطلاعات ہیں اور صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے.

جنوبی وزیرستان سے متعلق کوئی بھی فیصلہ قوم اور ملک کے مفاد میں کیا جائے گا۔

شدت پسندوں کے گروہوں میں متوازی قیادت ابھر رہی ہے اور امجد فاروقی گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

سرکاری طور پر جاری تفصیلات:

جی ایچ کیو آپریشن میں زخمی مزید تین کمانڈوز درجہ شہادت پر فائر 

پاک فوج کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کرنیوالے دہشتگردوں کیخلاف کمانڈو آپریشن کے موقع پر زخمی ہونے والے تین جوان دم توڑ کر شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے ۔ جاں بحق ہونیوالے تینوں ایس ایس جی ، کمانڈو ، سی ایم ایچ ، راول پنڈی میں زیرعلاج تھے ۔

سکیورٹی آفس میں اہل کاروں کو یرغمال بنانے والوں کیخلاف آپریشن میں تین جوان موقع پر جاں بحق اور بعض زخمی ہوگئے تھے ۔

دہشت گردوں کی فائرنگ سے تین یرغمالی بھی جاں بحق ہوئے تھے ، آپریشن کے جاں بحق زخمیوں کو سی ایم ایچ داخل کرایا گیا تھا۔ تین مزید کمانڈوز کی شہادت کے بعد اس واقعہ میں جان کا نذرانہ دینے والے ایس ایس جی جوانوں کی تعداد چھ ہوگئی ہے ۔

اسفندیار ولی خان:

 وقت آگیا ہے کہ قوم اور ادارے دہشت گردی کیخلاف جہاد کریں، 

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے الپوری شانگلہ میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ پوری قوم اورحکومتی ادارے مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جہاد کریں۔

دھماکے کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف مشترکہ طور پر جہاد وقت کی ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے پختون قوم کی سرزمین پر تیس سال سے پختونوں کا خون بہہ رہا ہے اور اسی لئے حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

الطاف حسین:

ہم وطنوں کو ہلاک وزخمی کرنے والے ملک کے دشمن ہیں،

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے ڈسٹرکٹ شانگلہ کی تحصیل الپوری میں چیک پوسٹ کے قریب ہولناک بم دھماکے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بم دھماکے میں فوجی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کے ہلاک وزخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے اوربم دھماکوں میں اپنے ہم وطن اور کلمہ گو مسلمان بھائیوں کو ہلاک وزخمی کرنے والے دین اسلام ، پاکستان اور عوام کے کھلے دشمن ہیں اور ایسے درندہ صفت دہشت گرد اور ان کے سرپرست کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہوسکتے.

بعض مبصرین بے شرمی اور بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دوسروں کی جنگ قراردے رہے ہیں اور ملک بھر کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

محض تین دن کے دوران پشاور ، جی ایچ کیو اورشانگلہ میں بم دھماکے اور حملہ کا نشانہ بننے والے فوجی اور عوام کیا پاکستانی نہیں تھے جو دہشت گردوں کے حملوں میں جاں بحق وزخمی ہوئے اور کیا یہ بے گناہ افراد کسی اور ملک کے فوجی اور شہری تھے؟

وقت کا تقاضہ ہے کہ ملک بھر کے عوام دہشت گردوں کے خلاف اتحادویکجہتی کامظاہرہ کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت اور مسلح افواج کا بھرپورساتھ دیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنایا جاسکے ۔

ملک بھر کے ذرائع ابلاغ کو ایسے عناصر کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جو خودکش حملہ آروں کی حمایت کررہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دوسروں کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔

الطاف حسین نے صدر آصف علی زرداری اوروزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا کہ شانگلہ کی تحصیل الپوری میں ہولناک بم دھماکہ کا نوٹس لیا جائے اور انتہاء پسند دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے مزید موٴثر اقدامات کئے جائیں ۔

رحمان ملک:

دہشت گردپاکستان کے دشمن      پاکستان کے وزیرداخلہ نے کہا ہےکہ حکیم اللہ محسود اور قاری زین جیسے دیگر دہشتگرد پاکستان کے دشمن ہیں۔ رحمان ملک نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ پاکستان میں ہونےوالے دہشتگردانہ واقعات کا منصوبہ باہر بنایا جاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا چاہتےہیں اور ان کے لئے اسلحہ افغانستان سے فراہم ہوتاہے ۔ رحمان ملک نے کہا کہ اسلام آباد اور اس کے اطراف کے علاقوں سے چوّن دہشتگردوں کو گرفتار کیا گيا ہے ۔