1 اپریل 2025 - 12:59
نماز اور اس کی اہمیت

"جب نماز بجا لے آؤ تو اللہ کو کھڑے بیٹھے اور کروٹ لیتے وقت یاد کرتے رہو اور جب تمہیں اطمینان نصیب ہو تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بلاشبہ نماز اہل ایمان پر ایک فریضہ ہے جو اوقات کے تعین کے ساتھ عائد کیا گیا ہے"۔ 

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ

نماز

نماز کی اہمیت

رب متعال کا ارشاد ہے:

"فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ فَإِذَا اطْمَأْنَنْتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا؛ [1]

پھر جب نماز بجا لے آؤ تو اللہ کو کھڑے بیٹھے اور کروٹ لیتے وقت یاد کرتے رہو اور جب تمہیں اطمینان نصیب ہو تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بلاشبہ نماز اہل ایمان پر ایک فریضہ ہے جو اوقات کے تعین کے ساتھ عائد کیا گیا ہے"۔ 

حضرت لقمان (علیہ السلام) کی ہدایات

"يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ؛ [2]

اے بیٹے ! نماز قائم کرتے رہنا، اور اچھے کاموں کا حکم دیتے [اور لوگوں کو ان پر آمادہ کرتے] رہنا، اور برائی سے منع کرتے رہنا، اور جو تمہیں مصیبت در پیش ہو، اس پر صبر کرتے رہنا، یقینا یہ [صبر] انسان کے لئے ضروری اور اہم کاموں میں سے ہے"۔

آیت کریمہ میں، نماز اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں حضرت لقمان (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کو نصیحت کے حوالے سے ان دو فرائض کے بارے میں مختصر وضاحت دی جاتی ہے:

- نماز انسان اور خدا کے درمیان سادہ ترین، عمیق ترین اور مستحسن ترین رابطہ ہے جو تمام آسمانی مذاہب میں فرض کی گئی ہے۔

- نماز واحد عبادت ہے، جس سے پہلے اذان کا حکم آیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ سب سے خوبصورت آواز کے حامل افراد بلندی پر چلے جائیں اور بلند آواز سے اذان دیں اور اور تکبیر اور شہادتیں دینے کے بعد لوگوں کو "حَيَّ عَلَی الصَّلَٰاۃِ، حَيَّ عَلَی الفَلَاحِ، حَيَّ عَلیٰ خَیرِالعَمَلِ"، کہہ کر خاموشیوں کو توڑ دے، اور خالص اسلامی افکار کے ایک مکمل کورس کا اعلان کرے اور غافلوں کو جگا دے۔

- نماز اس قدر اہمیت رکھتی ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن (علیہ السلام) نے بیوی بچوں کو مکہ کے بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑنے کا مقصد نماز کا قیام قرار دیا، نہ کہ حج بیت اللہ کی بجا آوری۔

- امام حسین بن علی بن علی بن ابی طالب (علیہم السلام) نے عاشورا کے دن بوقت ظہر، میدان جنگ کے بیچ اپنا سینہ یزیدیوں کے تیروں کی آماجگاہ بنا کر نماز ادا کی۔

- قرآن کریم کے مطابق، خدائے متعال حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو حکم دیتا ہے کہ مسجد الحرام کو نمازگزاروں کے لئے پاک و طاہر کر دیں۔ جی ہاں، نماز اس قدر اہم ہے کہ حضرت زکریا، مریم بنت عمران، اور ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) مسجد اور نماز کی برپائی کے مقام کے خادموں میں سے تھے۔

- نماز کی اہمیت اتنی ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے کانوں میں اذان اور اقامت پڑھی جاتی ہے، جو ایک نماز کی تمہید ہے جو دنیا سے رخصت ہونے کے بعد تا اس کے جنازے پر پڑھی جاتی ہے۔

- نماز تمام اعمال کی قبولیت کی کنجی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:

"أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ اَلْعَبْدُ اَلصَّلاَةُ فَإِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا؛ [3]

سب سے پہلی چیز جس پر بندے کا محاسبہ ہوتا ہے وہ نماز ہے، اگر اس کی نماز قبول ہوئی تو اس کے دوسرے اعمال بھی قبول ہوں گے"۔

اور امیرالمؤمنین (علیہ السلا) نے محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر مقرر کرکے ان کے نام اپنے مکتوب میں تحریر فرمایا:

"صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْمُؤَقَّتِ لَهَا وَلَا تُعَجِّلْ وَقْتَهَا لِفَرَاغٍ وَلَا تُؤَخِّرْهَا عَنْ وَقْتِهَا لِاشْتِغَالٍ، وَاعْلَمْ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِكَ تَبَعٌ لِصَلَاتِكَ؛ [4]

نماز کو معینہ وقت پر قائم رکھو، اور کام سے فراغت کی بنا پر اسے وقت سے پہلے سے مت پڑھنا، اور کام میں مصروفیت کی وجہ سے اسے مؤخر نہ کیا کرنا، اور تمہارے کاموں کی تمام چیزوں [کی قبولیت] نماز کے تابع ہے"۔

- نماز، ذکر اللہ اور یاد خدا ہے؛ ارشاد الٰہی ہے:

"وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي؛ [5]

اور میری یاد کے لئے نماز ادا کرو"۔

اور یاد خدا دلوں کا سکون ہے؛ ارشاد ربانی ہے:

"الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ؛ [6]

جو ایمان لائیں اور ان کے دل یاد الٰہی سے سکون پائیں آگاہ ہونا چاہئے کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوتا ہے"۔

- نماز، قرآن کریم کی بیشتر سورتوں ـ سب سے بڑے سورہ بقرہ سے لے کر سب سے چھوٹی سورہ کوثر تک ـ بیان ہوئی ہے۔

- زلزلے اور ہولناک آندھیوں، اور چاند گرہن اور سورج گرہن اور شدید گرج چمک اور بجلی گرنے جیسے قدرتی واقعات و حوادث کے لئے نماز آیات واجب ہوئی ہے اور بارش نہ ہونے کی صورت میں بارش کی نماز یا نماز استسقاء قرار دی گئی ہے۔

-  نماز انسان کو بہت سی برائیوں اور ناہنجاریوں سے باز رکھتی ہے؛ پروردگار متعال ارشاد فرماتا ہے:

"اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ؛ [7]

پڑھ کر سنایئے یہ کتاب جو آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی گئی ہے بلاشبہ نماز بدکاری اور برائی سے باز رکھتی ہے"۔

نماز می تمام انسانی کمالات مجتمع ہیں

- نماز صفائی ستھرائی، طہارت، حفظان صحت ـ مسواک، وضو، غسل اور بدن اور لباس کی پاکیزگی ـ کی صورت میں۔

- جرأت و ہمت، بے باکی، نڈر پن اور چلا چلا کر حق کا اظہار، اذان کی صورت میں۔

- میدان میں حاضر و موجود رہنا، جسے ہم مساجد میں اپنے اجتماع، نماز جماعت، نماز جمعہ اور نماز عید سے سیکھ لیتے ہیں۔

- عدالت خواہانہ رجحان کو عادل و پرہیزگار امام مسجد و امام جمعہ و جماعت کے انتخاب میں عینی طور دیکھا جا سکتا ہے۔  

- انسانی کمالات اور اقدار کو ان لوگوں میں دیکھتے ہیں جو صف اول میں کھڑے ہوتے ہیں، (بشرطیکہ قاعدہ ملحوظ رکھا جائے)۔

- آزادانہ اور خودمختاری پر مبنی سمت بندی کو ہم قبلہ رخ ہوکر محسوس کرتے ہیں۔ یہودی ایک سمت میں، اور عیسائی دوسری سمت میں، اپنے عبادی اعمال کو بجا لاتے ہیں، اور مسلمانوں کو اس لحاظ سے خودمختار اور آزاد ہونا چاہئے چنانچہ اللہ کے حکم کے مطابق کعبہ مسلمانوں کا مستقبل قبلہ بن جاتا ہے، تاکہ سمت بندیوں میں ان کی آزادی اور خودمختاری محفوظ رہے۔

مسلمانوں پر لازم ہے کہ دین میں اپنی آزادی اور استقلال کو محفوظ رکھیں اور یہود و نصاری کی پیروی کرکے ان کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، وہ تو صرف اس صورت میں رضامند ہوتے ہیں کہ ہم اپنا دین چھوڑ دیں؛ جیسا کہ اللہ تعالی نے حضرت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے مخاطب ہوکر فرمایا:

"وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ؛ [8]

اور آپ سے یہودی اور عیسائی تو اس وقت تک ہرگز خوش نہیں ہونگے جب تک آپ ان کے مذہب کی پیروی اختیار نہیں کریں گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور اگر آپ اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آ چکا ہے، ان کے من مانے خیالات کی پیروی کریں گے تو اللہ کے غضب سے بچانے کے لئے آپ کا نہ کوئی حامی ہوگا نہ مدد گار"۔

- دوسروں کے حقوق [حقوق الناس] کی رعایت کو اس میں دیکھتے ہیں کہ نہ تو مقام عبادت کی زمین غصبی ہو اور نہ ہی اس کی تعمیر میں غصبی مال کا کوئی شائبہ ہو، اور حتی کہ نمازگزار شخص کے لباس میں ایک انچ کے برابر غصبی دھاگا بھی نہیں ہونا چاہئے۔

- سیاسی اور سماجی امور کی طرف توجہ کی ضرورت کو اس وقت محسوس کرتے ہیں جب احادیث میں پڑھتے ہیں کہ امام معصوم (علیہ السلام) کی ولایت و امامت قبول نہ کرنے کی صورت میں نماز قبول نہیں ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"لَوْ أَنَّ عَبْداً عَبَدَ اللَّهَ مِثْلَ مَا قَامَ نُوحُ فِي قَوْمِهِ وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَباً فَأَنْفَقَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَدَّ فِي عُمُرِهِ حَتَّى يَحُجَّ أَلْفَ عَامٍ عَلَى قَدَمَيْهِ ثُمَّ قُتِلَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَظْلُوماً وَلَمْ يُوَالِكَ يَا عَلِيُّ، لِمَ يَشَمُّ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَلَمْ يَدْخُلَهَا؛ [9]

ہرگاہ ایک بندہ، اللہ کی حضرت نوح (علیہ السلام) کے اپنی قوم میں قیام کی مدت جتنی عبادت کرے، اور اس کے پاس کوہ احد جتنا سونا ہے اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خیرات کر دے، اور اس کی عمر اتنی طویل ہوجائے کہ ایک ہزار بار پیدل چل کر حج بیت اللہ بجا لائے، اور آخرکار صفا اور مروہ کے درمیان مظلومیت کی حالت میں مارا جائے، لیکن آپ کی ولایت و امامت کو تسلیم نہ کرے، جنت کی بو اس تک نہیں پہنچے گی اور وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا"۔

- نظم و ضبط او نماز با جماعت کی منظم صفوں میں دیکھتے ہیں۔

- شہدائے اسلام کی طرف خاص توجہ اور عقیدت کو تربت کربلا کی مہروں (اور سجدہ گاہوں) میں دیکھتے ہیں۔

- حفظان صحت اور ماحول کی صفائی ستھرائی کو ان احکام و ہدایت میں دیکھتے ہیں جو مسجد اور اہلیان مسجد کی صفائی ستھرائی پر زور دیتے ہیں۔

- اللہ کی طرف توجہ کو نماز میں دیکھتے ہیں۔

- معاد اور قیامت کی طرف توجہ کو "مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ" میں دیکھتے ہیں۔

- حقیقی معبود کے انتخاب کو "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" میں دیکھتے ہیں۔

- راستے کے انتخاب کی طرف توجہ اور اس کی اہمیت کو "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ" میں دیکھتے ہیں۔  

- اچھے دوستوں اور ساتھیوں کے انتخاب کو "صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" میں دیکھتے ہیں۔

- گمراہوں اور اللہ کے غضب کا نشانہ بننے والوں سے دوری اور پرہیز کی ضرورت کو "غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ"، میں دیکھتے ہیں۔

- نبوت اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی طرف توجہ کو "شہادتین: "أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِیکَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" میں دیکھتے ہیں اور محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہم اجمعین) کی طرف توجہ کو تشہد کے بعد صلوات میں دیکھتے ہیں: "الّلهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ"، جس کے بغیر نماز نامکمل اور غیر مقبول ہے۔ اور اپنے پیغمبر پر سلام کی ضرورت کو "اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا النَّبيُّ وَرَحْمَةُ اللّهِ وَبَرَ كَاتُهُ" میں دیکھتے ہیں اور صالح بندوں کی تکریم کو "السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِين‏" میں دیکھتے ہیں۔

- صحتمند اور پاک و حلال غذا کھلانے کی ضرورت کو وہاں دیکھتے ہيں جہاں فرمایا جاتا ہے کہ جو شخص الکحلی مشروبات پی لے، 40 دن تک اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"إنّ مَن شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُحْسَبْ صَلَاتُهُ أرْبَعينَ صَباحاً؛ [10]

یقینا جو شراب پیے اس کی نماز چالیس دنوں تک نماز نہیں سمجھی جاتی"۔

نیز آنحضرتؐ نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے مخاطب ہوکر فرمایا:

"شَارِبُ اَلْخَمْرِ لاَ يَقْبَلُ اَللَّهُ صَلَاَتَهُ أَرْبَعِينَ يَوْماً وَإِنْ مَاتَ فِي اَلْأَرْبَعِينَ مَاتَ كَافِراً؛ [11]

اللہ تعالی شراب نوشی کرنے والے شخص کی نماز چالیس دن تک قبول نہيں کرتا اور اگر وہ ان چالیس دنوں میں مرا تو کافر مرا ہے"۔

امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:

"مَنْ شَرِبَ الخَمْرَ فَسَكِرَ مِنْهَا لَمْ يُتَقَبَّلْ صَلَاتُهُ أرْبَعينَ يَوْماً، فَإِنْ تَرَكَ الصَّلاةَ في هَذِهِ الْأَيَّامِ ضُوعِفَ عَلَيهِ الْعَذابُ لِتَرْكِ الصَّلَاةِ؛ [12]

جو شخص شراب پیے اور اس کی وجہ سے مست ہو جائے، چالیس دن تک اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی اور اگر وہ ان ایام میں نماز کو ترک کر دے تو اس کا عذاب دوہرا ہو جاتا ہے"۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:

"لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ شَارِبِ المُسْكِرِ أرْبَعينَ يَوْماً إِلَّا أَنْ يَتُوبَ؛ [13]

جو شخص نشہ آور مشروب پیے چالیس دن تک اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوتی، سوا اس کے کہ وہ توبہ کرے"۔

- ظاہری طور پر آراستگی اور پیراستگی کو اس حقیقت میں دیکھتے ہیں کہ حکم ہے کہ نمازگزار صاف ستھرا لباس پہنے، خوشبو لگائے، خود کو مزین کرے اور حتیٰ کہ خواتین کو نماز کے وقت اپنی زینت کی اشیاء ساتھ رکھنے کی تلقین ہوئی ہے۔

- شریک حیات کو توجہ دینے کی ضرورت کو اس حدیث میں دیکھتے جہاں

"مَنْ كَان لَهُ امْرَاَةٌ تُؤْذيهِ لَمْ يَقْبَلِ اللّهُ صَلاتَها وَلَا حَسَنةً مِنْ عَمَلِها حَتَّى تُعِينَهُ وَتُرضِيَهُ وَإِنْ صامَتِ الدَّهرَ وَقامَتِ اللَّيْلَ وَأَعْتَقَتِ الرِّقابَ وَأَنْفَقَتِ الْأَمْوَالَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ يَرِدُ النَّارَ؛ ثُمَّ قالَ: وَعَلَى الرَّجُلِ مِثْلُ ذَلِكَ الْوِزْرِ وَالْعَذابِ إِذَا كَانَ لَهَا مُؤْذِياً ظَالِماً؛ [14]

جس شخص کی زوجہ ہو اور وہ اس [شوہر] کو اذیت پہنچائے، خدائے متعال نہ اس کی نماز کو قبول کرتا ہے، نہ ہی اس کے اعمال کی کسی نیکی کو، یہاں تک اس کی مدد و اعانت کرے، اور اس کو راضی کر دے، ورنہ اگر وہ اپنی پوری زندگی روزہ رکھے اور تمام راتوں کو کھڑی ہو کر نماز پڑھے، و اللہ کی راہ میں اپنے اموال کو خیرات کردے، اور وہ ان پہلے لوگوں میں سے ایک ہے جو جہنم میں داخل ہوگی؛ اور پھر فرمایا: مرد پر یہی عذاب ہے [اور اس کے اعمال بھی قبول نہیں ہونگے اور سب سے پہلے جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے ہوگا) اگر وہ اپنی زوجہ کو اذیت پہنچائے اور اس پر ظلم روا رکھے"۔

ظلم اور حق کی پامالی کی مختلف قسمیں ہیں اور بدزبانی یا زد و کوب کرنا وغیرہ ان قسموں میں سے ہیں۔ اس طرح کے مسائل میاں بیوی کر درمیاں بھی رونما ہو سکتے ہیں اور معاشرے کے افراد کے درمیان بھی، جبکہ میاں بیوی کے باہمی حقوق میں سے بہت سارے حقوق معاشرے کے افراد کے متقابل حقوق بھی ہیں؛ اور ان کی پامالی سے انسان کی عبادات بھی متاثر ہو سکتی ہیں: درج ذیل دو حدیثوں پر غور کیجئے:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:

"اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ اَلْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَ يَدِهِ؛ [15]

مسلمان وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں"۔

امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:

"عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِى جَعْفَرٍ عَلَيهِ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ عَلَيهِ السَّلَامُ: يَا سُلَيْمَانُ أَتَدْرِى مَنِ الْمُسْلِمُ؟ قُلْتُ: جُعِلْتُ فِدَاكَ أَنْتَ أَعْلَمُ. قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ؛ ثُمَّ قَالَ: وَتَدْرِى مَنِ الْمُؤْمِنُ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ. قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ مَنِ ائْتَمَنَهُ الْمُسْلِمُونَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَ أَنْفُسِهِمْ وَ الْمُسْلِمُ حَرَامٌ عَلَى الْمُسْلِمِ أَنْ يَظْلِمَهُ أَوْ يَخْذُلَهُ أَوْ يَدْفَعَهُ دَفْعَةً تُعَنِّتُهُ؛ [16]

امام محمد باقر (علیہ السلام) نے سلیمان نامی شخص سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟

سلیمان نے عرض کیا: آپ اس سوال کا جواب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ پھر فرمایا: کیا جانتے ہو کہ مؤمن کون ہے؟

سلیمان نے پھر بھی عرض کیا: آپ زیادہ عالم ہیں۔

تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا: مؤمن وہ ہے جس کو مسلمین اپنے مال اور جان کے سلسلے میں امین اور قابل اعتماد سمجھیں اور اس پر اطمینان رکھتے ہوں۔ اور مسلمان پر حرام ہے کہ مسلمان پر ظلم کرے، یا اس کو بے یار و مددگار چھوڑے، یا اس کو  طعن و تشنیع کرتے ہوئے اپنے آپ سے دور کر دے"۔

بہر صورت میاں بیوی اور مؤمن بھائیوں کے درمیان کی نفرتیں دشمنیاں نماز اور روزے سمیت تمام عبادات کو متاثر کرتی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جیسا کہ اوپر کی دو حدیثوں میں بیان ہؤا، اگر مسلمین و مؤمنین کسی کے ہاتھ اور زبان محفوظ نہ ہوں، تو اعمال کی قبولیت تو درکنار، اس کے اسلام اور ایمان ہی کو سوالیہ نشان کا سامنا ہے۔

الف) بعض آیات کریمہ میں "نماز" کا حکم "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کے ساتھ ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے متاثر ہیں۔ بعض آیات میں بیان ہؤا ہے کہ نماز کی اپنی خصوصیت یہ ہے کہ یہ برائیوں سے باز رکھتی ہے؛ جیسا کہ خدائے متعال ارشاد فرماتا ہے:

"وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ؛ [17]

پڑھ کر سنایئے یہ کتاب جو آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی گئی ہے بلاشبہ نماز بدکاری اور برائی سے باز رکھتی ہے"۔

ب) نمازیں حسنات [نیکیاں] ہیں جو برائیوں کو زائل کر دیتی ہیں؛ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

"وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ؛ سورہ ہود، آیت 114۔

اور "نماز" ادا کرو دن کے دونوں طرف کے حصوں میں اور رات کے کچھ حصوں میں یقینا "نیکیاں" ختم کر دیتی ہیں "برائیوں" کو۔ یہ [ان] یاد رکھنے والوں [اور نہ بھولنے والوں] کے لئے، یاد دہانی ہے"۔

ج) نماز قائم رکھنا اور امر و نہی ساتھ ساتھ ہیں؛ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

"أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ؛ [18]

نماز قائم کرتے رہنا، اور اچھے کاموں کا حکم دیتے [اور لوگوں کو ان پر آمادہ کرتے] رہنا، اور برائی سے منع کرتے رہنا"۔

د) ذیل کی آیت میں اللہ کے ہاں کے پسندیدہ مؤمنوں کا تعارف کرایا گیا ہے اور ان امور کی انجام دہی کو ان لوگوں کے بنیادی مقاصد میں گردانا گیا ہے:

"الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ؛ [19]

[وہ جو بے جرم و خطا اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے، اور کہہ رہے تھے کہ ہمارا مالک اللہ ہے،۔۔۔۔ یہ] وہ ہیں جنہیں ہم اکر زمین میں اقتدار [اور حکمرانی] عطا کریں تو زمین میں تو وہ نماز کو قائم کریں گے، اور زکوٰة کو برقرار کریں کے، اور نیکیوں کی ہدایت کریں گے اور برے کاموں سے روکیں گے اور اللہ کے ہاتھ میں تمام باتوں کا انجام ہے"۔ (آیت 40 کو بھی دیکھئے]

آخری نکتہ:

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) فرماتے ہیں

"فَرَضَ اللَّهُ الْإِيمَانَ تَطْهِيراً مِنَ الشِّرْكِ، وَالصَّلَاةَ تَنْزِيهاً عَنِ الْكِبْرِ؛ [20]

اللہ نے ایمان کو فرض کر دیا اس لئے کہ [تمہیں] شرک سے پاک کر دے، اور نماز کو فرض کیا اس لئے کہ [تمہیں] تکبر [اور بڑائی جتانے جیسی برائی] سے پاک کرنے کا ذریعہ قرار دیا"۔

**************

ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

[1]۔ سورہ نساء، آیت 103۔

[2].۔ سورہ لقمان، آیت 17۔

[3]۔ الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، الکافی، ج3، ص268؛ سید ابن طاؤس نے یہ حدیث یوں نقل کی ہے: "أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ اَلْعَبْدُ اَلصَّلاَةُ فَإِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا وَ إِنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاهَا؛ یعنی اگر بندے کی نماز قبول ہوئی تو اس کے دوسرے اعمال بھی قبول ہونگے اور اگر اس کی نماز ردّ ہوئی، تو اس کے دوسرے اعمال بھی ردّ ہوجائیں گے: سید بن طاؤس، علي بن موسى بن جعفر الحلی، فلاح السائل و نجاح المسائل، ص127۔

[4]۔ نہج البلاغہ، مکتوب نمبر 27۔

[5]۔ سورہ طہ، آیت 14۔

[6]۔ سورہ رعد، آیت 28۔

[7]۔ سورہ عنکبوت، آیت 45۔

[8]۔ سورہ بقرہ، آیت 120۔

[9]۔ ابو الشجاع الدیلمی، شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ بن فناخسرو الہمدانی (الشافعی)، الفردوس بمأثور الخطاب، ج3، ص364؛ الموفق الخوارزمی، موفق بن أحمد بن محمد المکی، ص68، ح40؛ ابن عراق، علی بن محمد بن علی بن عبد الرحمن الدمشقی، تنزیہ الشریعہ عن الاخبار الشنیعہ الموضوعہ، ج1، ص398۔

[10]۔ الشیخ الصدوق، محمد بن علی، علل الشرائع، ج1، ص345۔

[11]۔ الشیخ الصدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، ج4، ص354۔

[12]۔ الشیخ الصدوق، محمد بن علی، الخصال،  ج1، ص534۔

[13]۔ علامہ مجلسی، محمد باقر بن محمد تقی، بحار الانوار، ج84، ص317۔

[14]۔ الشیخ الصدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال، ص335؛ الحر العاملی، محمد بن حسن، وسائل الشيعہ ( ط الإسلامية)، ج14، ص116۔

[15]۔ المتقی الہندی، علی بن حسام الدین، کنز العمال، ج1، ص149، ح738؛ الشعیری، محمد بن محمد، جامع الأخبار، ص37؛ القضاعی، قاضی محمد بن سلامہ، شہاب الاخبار، ج1، ص61۔

[16]۔ الکلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، ج2، ص234۔

[17]۔ سورہ عنکبوت، آیت 45۔

[18].۔ سورہ لقمان، آیت 17۔

[19]۔ سورہ حج، آیت 41۔

[20]۔ نہج البلاغہ، حکمت نمبر 252۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha