28 اکتوبر 2020 - 18:56
لوگ کیا سوچیں گے؟

یہ وہ مسئلہ ہے جس نے ہماری زندگی میں مسائل ہی مسائل بنا دیے ہیں ہمارا سکون چھین لیا ہے، صرف اس سوچ کی وجہ سے ہماری سوچ بہک گئی ہے اور فکر اپنے راستے سے ہٹ گئی ہے، جہاں ہماری فکر کا محور و مرکز، خدا کی ذات کو ہونا چاہیے وہاں انسانی بت سامنے آ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔

بقلم سیدہ صابرہ جعفری
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سوچنا، غورکرنا اور فکر کرنا انسان کا خاصہ اور انسانی امتیاز ہے یہی سوچ اور فکر ہے جو انسان کو حیوان سے جدا کرتی ہے انسان کو انسان ہی اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے سمجھتا ہے اور فکر کرتا ہے۔ جبکہ حیوان سارے کام کرتا ہے سوائے سوچنے کے۔ آج تک کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ کوئی حیوان گھنٹوں سرجھکائے کچھ سوچتا رہا ہو اور پھر ایک دم سے کہے آہاں اب سمجھ گیا!۔ جب کہ انسان تو اتنا سوچتا ہے کہ کہیں جلدی بڑھاپا آ جاتا ہے، کہیں شوگر بڑھ جاتی ہے اور کہیں بلڈ پریشر کی پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔
ان ساری باتوں کے باوجود پھر بھی ساری بشریت ایک دوسرے کو سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ بھائی کچھ تو سوچیں، یہ کیا حال بنا رکھا ہے۔ اتنا جلدی بڑھاپا؟ اتنی شوگر؟ کچھ تو سوچیں۔ لگتا ہے سوچے بغیر کام نہیں چلے گا۔ جی ہاں سوچنا تو پڑے گا کیونکہ کہ سوچنے کا حکم تو خالق نے بھی دیا ہے۔ افلا تعقلون؟ افلا تتدبرون؟ کیوں نہیں سوچتے، کیوں فکر نہیں کرتے؟
دین اسلام نے سوچنے اور فکر کرنے کو عبادت کہا ہے بلکہ سوچنے اور فکر کرنے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) اس طرح فرماتے ہیں کہ ایک گھنٹے کا سوچنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ سوچنا فکر کرنا انسانی کمال ہے، بلکہ وہی انسان انسانیت کی معراج تک پہنچ سکتا ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ انسان کیا سوچے؟ کن چیزوں کے بارے میں فکر کرے؟ کیوںکہ ہر سوچ تو انسان کو کمال تک نہیں پہنچا سکتی اور نہ ہی ہر سوچ انسان کی زندگی کو خوبصورت اور آسان بناتی ہے۔ لہذا ہمیں اس چیز کے بارے میں سوچنا چاہیے جس کے بارے میں سوچنے کے بعد ہم انسانیت کے کمال تک پہنچ جائیں اور انسانیت کی کمال یہ ہے کہ انسان خدائی ہو جائے۔
خدا کے بارے میں سوچیں، خدا کی مخلوقات کے اندر غور و فکر کریں، اپنے بارے میں سوچیں، اپنی آخرت کے بارے میں سوچیں، انسان زمین حیوانات چرند پرند کے سلسلے میں غور و فکر کریں ان سب چیزوں کو اپنی سوچ کا موضوع بنائیں۔ ہاں یہ سب تو سوچیں لیکن خدا را یہ نہ سوچیں کہ "لوگ کیا سوچیں گے"۔
پورا قرآن پڑھ لیں، احادیث پڑھ لیں، علماء سے پوچھ لیں دانشوروں سے سوال کر لیں اہل فکر سے معلوم کر لیں، کہیں بھی یہ نہیں ملے گا کہ ہم یہ سوچیں کہ لوگ کیا سوچیں گے۔
یہ سوچنا ہمارا کام نہیں، اس لیے کہ یہ وہ سوچ ہے جس نے ہماری زندگیوں کو سخت کر دیا ہے اور ہمارا جینا حرام کر دیا ہے۔ ہماری ساری زندگی صرف اس سوچ میں صرف ہو جاتی ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ کوئی بھی کام کرنا چاہتے ہیں تو پہلی فکر جو لاحق ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے؟ حق بولنا چاہتے ہیں ڈر جاتے ہیں، کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں ڈر جاتے ہیں، بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں، الغرض دینی امور سے لے کر دنیوی امور تک سبھی اس موذی مرض کا شکار ہیں، ادھر والدین شادی کا ارادہ کرتے ہیں ادھر جہیز کی فکر ستانے لگتی ہے، رسموں کی فکر پڑ جاتی ہے، ایک ایک رشتہ دار کا چہرہ نگاہوں میں آنے لگتا ہے۔
یہ وہ مسئلہ ہے جس نے ہماری زندگی میں مسائل ہی مسائل بنا دیے ہیں ہمارا سکون چھین لیا ہے، صرف اس سوچ کی وجہ سے ہماری سوچ بہک گئی ہے اور فکر اپنے راستے سے ہٹ گئی ہے، جہاں ہماری فکر کا محور و مرکز، خدا کی ذات کو ہونا چاہیے وہاں انسانی بت سامنے آ کر کھڑے ہو گئے ہیں، لہذا سکون کیسے مل سکتا ہے اس لیے کہ دنیا میں طرح طرح کے لوگ ہیں، عالم بھی ہیں جاہل بھی، اگر ہم عالموں کی طرح سوچیں گے جاہل ناراض ہو جائیں گے، اور جاہلوں کی سوچ پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے تو عالم بگڑ جائیں گے۔ ہم کسی بھی صورتحال میں اس دنیا میں کسی کو راضی نہیں رکھ سکتے۔ اور پھر رہا یہ مسئلہ کہ ہم کیوں سوچیں کہ لوگ کیا سوچیں گے؟ یہ ہماری ذمہداری نہیں ہے، ہماری پریشانی نہیں ہے،بلکہ اس کی پریشانی ہے جو سوچ رہا ہے، یہ وہ مشکل ہے جس سے ہمارا کوئی واسطہ ہی نہیں ہے،  اور یہ طے نہیں ہے کہ لوگوں کی فکر کے مطابق جیا جائے بلکہ ہم اپنی زندگی کو اپنے حساب سے اور سب سے بڑھ کر خدا کی مرضی کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں، ہمارا سارا ہم و غم یہ ہونا چاہیے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں کیا ہمارے اس فعل سے خدا راضی ہے کہ نہیں، ہمارا کام اس کو پسند ہے کہ نہیں؟ اور جب ہم اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ہمارا عمل رضائے الہی کے مطابق ہے تو پھر ہمیں کسی چیز کی پرواہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کے بعد کسی اور چیز کی کوئی اہمیت باقی رہ جاتی ہے۔ انسانی زندگی جب اس موڑ پر پہنچتی ہے تو بہت ہی پرسکون اور خوشگوار ہو جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲