اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے نائب وزیرِ دفاع اسٹیو فائنبرگ نے ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں پیدا ہونے والی کمی اور خلا کی تصدیق کرتے ہوئے دفاعی کمپنیوں سے ہتھیاروں کی پیداوار اور ترسیل فوری طور پر تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق فائنبرگ نے بڑی امریکی دفاعی کمپنیوں کو خط لکھ کر اہم دفاعی نظام کی تیاری اور فراہمی کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان نظاموں میں وسیع پیمانے پر نگرانی اور جاسوسی کے آلات، سینسرز، فضائی دفاعی میزائل اور میزائل ٹریکنگ سسٹم شامل ہیں۔
فائنبرگ نے کمپنیوں سے حساس شعبوں، خصوصاً سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور جدید فضائی دفاعی نظام، میں پیداواری صلاحیت بڑھانے اور سپلائی کے شیڈول کو نمایاں طور پر مختصر کرنے کے منصوبے پیش کرنے کو کہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق پینٹاگون کا یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ فائنبرگ نے 5 اگست کو بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن اور آر ٹی ایکس سمیت بڑی دفاعی کمپنیوں کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ایسے ترقیاتی منصوبے جو مکمل ہونے میں کئی سال لیتے ہیں اب قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی ذخائر میں کمی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے پاس بہت بڑی مقدار میں ہتھیار موجود ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال نے امریکی ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس سے دنیا کے دیگر خطوں میں امریکی فوج کی جنگی تیاری اور اتحادی ممالک کو ہتھیار فراہم کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ریٹائرڈ امریکی بریگیڈیئر جنرل مارک کیمٹ اور بلومبرگ کی دفاعی تجزیہ کار بیکا واسر کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع میں اپنے پیٹریاٹ میزائلوں کے کم از کم نصف ذخیرے استعمال کرچکا ہے، جس کے باعث یوکرین جیسے اتحادیوں کو مزید ہتھیار فراہم کرنے کے فیصلے مزید مشکل ہوسکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ