انقلاب بحرین
-
بحرین میں شیعہ مذہبی سرگرمیوں پر حکومتی پابندیوں کے خلاف احتجاج
بحرین میں شیعہ مذہبی مجالس، خطابات اور عزاداری کو حکومتی اجازت نامے سے مشروط کرنے کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف علاقوں سے 15 سے زائد احتجاجی بیانات جاری ہونے کے ساتھ کئی مقامات پر مظاہرے اور احتجاجی اجتماعات بھی منعقد ہوئے۔
-
بحرین کے محلوں میں وزارتِ داخلہ کی نگرانی کا نظام بحال؛ شہریوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے خدشات
بحرین میں مقامی نمائندگی کے سرکاری نظام کی دوبارہ بحالی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بحرینی مصنفہ زینب علی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نظام کے اختیارات اور معلومات جمع کرنے کی حدود واضح نہ کی گئیں تو عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کے بجائے یہ ڈھانچہ محلوں اور دیہات میں شہریوں کی سرگرمیوں اور سماجی روابط کی نگرانی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
-
بحرین میں شیعہ علما کی گرفتاری ضمیر کی گرفتاری ہے، تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے: اپوزیشن رہنما
بحرین کی مرکزی جیل میں قید اپوزیشن رہنماؤں اور سیاسی شخصیات نے شیعہ علما کی گرفتاری کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے ان کی بے گناہی پر زور دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خودسرانہ کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں اور تمام گرفتار افراد و سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
-
بحرین کی جیل میں سید حسن نصراللہ کی توہین پر احتجاج؛ قیدیوں پر تشدد
بحرین کی الحوض الجاف جیل میں سید حسن نصراللہ کی توہین کے خلاف احتجاج کرنے والے قیدیوں پر جیل انتظامیہ کے اہلکاروں نے دھاوا بول دیا۔ قیدیوں کے مطابق، اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، بدسلوکی کی اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔
-
بحرینی حقوق کارکن: شیعہ مخالف نفرت انگیز مہم پر حکومت کی خاموشی تشویشناک ہے
بحرینی انسانی حقوق کے کارکن سید یوسف المحافظہ نے سوشل میڈیا پر شیعہ مسلمانوں کے خلاف تکفیری اور نفرت انگیز مواد کے مسلسل پھیلاؤ پر حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ منظم آن لائن مہمات بحرین میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھا کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
-
بحرین کی عدالت میں سکیورٹی افسر کی متنازع گواہی، شیعہ علما کے خلاف مقدمے پر سوالات اٹھ گئے
بحرین میں متعدد شیعہ علما کے خلاف مقدمے کی 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی سماعت میں نقاب پوش سکیورٹی افسر کی گواہی نے مقدمے میں پیش کیے گئے سکیورٹی مؤقف اور اس کے شواہد پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
-
بحرین میں شیعہ عزاداروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، امام رضاؑ کی عزاداری پر متعدد افراد گرفتار
بحرین کی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران درجنوں شیعہ شہریوں، علما، ذاکروں اور خطباء کو مذہبی مجالس اور امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کی عزاداری میں شرکت کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
-
الوفاق کا بحرین کے بادشاہ کے اسرائیلی صدر سے رابطے پر سخت ردعمل؛ تل ابیب سے اتحاد امن کی ضمانت نہیں
بحرین کی اسلامی سیاسی تنظیم الوفاق نے بحرین کے بادشاہ اور اسرائیلی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد بحرین یا خطے کے لیے امن و استحکام نہیں لا سکتا بلکہ مزید خطرات کو جنم دے گا۔
-
بحرین میں شیعہ قیدیوں پر مذہبی پابندیاں برقرار؛ جیلوں میں تربت اور کتبِ ادعیہ پر پابندی، عاشورائی شعائر بھی نشانے پر
بحرینی خبر رساں ویب سائٹ مرآۃ البحرین نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف مذہبی امتیاز اور دباؤ کی پالیسی بدستور جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، "الحوض الجاف" جیل میں شیعہ قیدیوں کو قرآن، کتبِ ادعیہ اور سجدے کے لیے تربت تک فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ عاشورائی شعائر پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
-
جنوبی لبنان میں تازہ اسرائیلی حملہ؛ چار افراد شہید
جنوبی لبنان میں اسرائیل کے تازہ حملے میں کم از کم چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق یہ حملہ علاقے یحمر الشقیف میں ایک ٹرک اور موٹر سائیکل کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔
-
اعلان جہاد؛
امت مسلمہ فتوائے جہاد نافذ کرنے کے لئے تیار ہے، آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم
شیعیان بحرین کے قائد نے کہا: آج شرعی فریضہ ـ اعلی ترین شدت اور سنجیدگی کے ساتھ ـ ایران کی مسلم اور باغیرت قوم کے ساتھ ساتھ مجاہد مسلم امہ پر عائد ہے کہ وہ اپنے عزم جہاد، مضبوطی اور جانفشانی کو امت کی عزت و عظمت و ہیبت کی بحالی اور ولایت کے استحکام کے لئے بروئے کار لائیں۔
-
مسلمان اجتماعی طاقت،57 اسلامی ملکوں کی مشترکہ فوج بنےگی؟
ہر بحران میں مسلم دنیا امریکہ کی طرف ہی کیوں دیکھتی ہے؟ 57 مسلم ملک ہونے کے باوجودمسلمان اجتماعی طاقت کیوں نہیں بن سکے؟
-
لاکھوں لوگ آیت اللہ خامنہ ای پر جان فدا کرنیکے کے لیے تیار ہیں: آیت اللہ عیسیٰ قاسم
بحرین کے شیعہ رہنما آیت اللہ عیسی قاسم نے قم سے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایک ایسی شخصیت ہیں جو علمی، روحانی اور سیاسی بلندیوں پر فائز ہیں، وہ رہنما جس کے لیے ایران کے لاکھوں مرد و زن اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ان کے حکم کو ایک ایسا دینی حکم سمجھتے ہیں جس کی خلاف ورزی جائز نہیں اور وہ ان کی صحت کو اسلام اور قوم کی سلامتی سمجھتے ہیں۔