22 اگست 2026 - 16:24
بحرین کی عدالت میں سکیورٹی افسر کی متنازع گواہی، شیعہ علما کے خلاف مقدمے پر سوالات اٹھ گئے

بحرین میں متعدد شیعہ علما کے خلاف مقدمے کی 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی سماعت میں نقاب پوش سکیورٹی افسر کی گواہی نے مقدمے میں پیش کیے گئے سکیورٹی مؤقف اور اس کے شواہد پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سماعت کے دوران وکلا نے سکیورٹی افسر سے ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کے مفہوم سمیت مقدمے سے متعلق متعدد سوالات کیے، تاہم گواہ بعض بنیادی سوالات کا واضح جواب دینے میں ناکام رہا۔ وکلا نے اس کے بیانات میں تضادات اور متعدد سوالات کے جوابات دینے سے گریز پر بھی اعتراض کیا۔

سماعت میں ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کا مفہوم اہم موضوع بن کر سامنے آیا، کیونکہ مقدمے کے سکیورٹی مؤقف میں اس نظریے کو اہم حیثیت حاصل ہے۔ وکلا کے مطابق گواہ اس اصطلاح کی واضح اور درست تشریح پیش نہیں کرسکا، جس سے مقدمے میں مذہبی تصورات کو سکیورٹی الزامات کی بنیاد بنانے کے طریقہ کار پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

وکلا نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ گواہ متعدد سوالات کے جواب میں بار بار اپنے سابقہ بیانات کی جانب رجوع کرتا رہا اور کہتا رہا کہ ’’استغاثہ کے سامنے دیے گئے میرے بیانات دیکھیں‘‘۔ دفاعی وکلا کے مطابق عدالت میں گواہی کا مقصد براہِ راست سوالات کے ذریعے گواہ کے دعووں اور معلومات کی جانچ کرنا ہے۔

سماعت کے دوران ایک اور اہم دعویٰ بھی سامنے آیا۔ سکیورٹی افسر نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا کہ آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہدایت پر اسلامی علما کی کونسل قائم کی تھی۔ تاہم اس دعوے کی اہمیت کے پیش نظر کسی تحریری دستاویز، خط و کتابت، براہِ راست گواہی یا دیگر قابلِ جانچ شواہد کی ضرورت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

مقدمے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کسی عالم کا کسی مذہبی مرجع سے تعلق، مذہبی ادارے میں سرگرمی یا کسی فقہی نظریے پر اعتقاد اپنی ذات میں مذہبی معاملہ ہے، تاہم اگر سکیورٹی ادارے انہی امور کو کسی بیرونی سیاسی یا تنظیمی وابستگی کی علامت قرار دیں تو اس دعوے کے لیے واضح اور ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔

بحرین کی شیعہ برادری کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مذہبی علما، دینی ادارے اور مذہبی سرگرمیاں ملک کے سماجی ڈھانچے کا تاریخی حصہ ہیں۔ مذہبی تصورات اور اداروں کو سکیورٹی معاملات سے جوڑنے کے عمل کے اثرات ایک مقدمے سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بحرین میں سیاسی اور سکیورٹی مقدمات کی سابقہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2011 کے واقعات اور اس کے بعد کے مقدمات کے باعث ملک میں عدالتی عمل کی آزادی اور سکیورٹی بیانیے کے عدالتی مقدمات پر اثرات ہمیشہ زیر بحث رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق، حالیہ سماعت میں نقاب پوش سکیورٹی افسر کی گواہی اسی وسیع بحث کا حصہ بن گئی ہے کہ آیا سکیورٹی اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے دعوے عدالت میں آزادانہ طور پر قابلِ جانچ شواہد کی صورت میں موجود ہیں یا نہیں۔

تاہم مقدمے میں گواہی کی حتمی حیثیت اور شواہد کی قانونی قدر کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی، اس لیے محض میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مقدمے کے حتمی عدالتی نتیجے کے بارے میں فیصلہ دینا قبل از وقت ہوگا۔

آخرکار اس سماعت کا بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا شیعہ علما کے خلاف مقدمے میں پیش کیے گئے ’’ولایتِ فقیہ‘‘، مذہبی مرجعیت اور بیرونی روابط سے متعلق دعوے محض سکیورٹی الزامات ہیں یا انہیں عدالت میں واضح، قابلِ جانچ اور قابلِ قبول شواہد سے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha