اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرینی ویب سائٹ مرآۃ البحرین نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں شیعہ برادری کے خلاف مذہبی امتیاز اور دباؤ کی منظم پالیسی جاری ہے، جس کے آثار جیلوں سے لے کر عوامی مذہبی سرگرمیوں تک نمایاں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین کی حکومت خود کو مذہبی رواداری اور بقائے باہمی کا علمبردار ظاہر کرتی ہے، لیکن عملی طور پر شیعہ شہریوں کو ان کے بنیادی مذہبی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سیاسی قیدیوں کی جیلیں، خصوصاً الحوض الجاف جیل، ان دعوؤں کی نفی کرتی ہیں، جہاں شیعہ قیدیوں کو عبادت کے لیے ضروری مذہبی اشیاء، جیسے قرآن مجید، کتبِ ادعیہ اور سجدے کے لیے تربت، فراہم نہیں کی جاتیں۔
انسانی حقوق کی کارکن ابتسام الصائغ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے قیدیوں کے لیے قرآن اور کتبِ ادعیہ فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم جیل حکام نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق، متعدد قیدیوں نے فون کے ذریعے ان ضروری مذہبی اشیاء کی فراہمی کی درخواست کی، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں ایک سابق قیدی کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق جیل انتظامیہ تربت اور دعاؤں کی کتابیں اندر لے جانے کی اجازت نہیں دیتی، جس کے باعث شیعہ قیدی سجدے کے لیے مجبوری میں گتے کے ٹکڑے استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ اقدامات محض انتظامی فیصلے نہیں بلکہ مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق اور اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا قواعد قیدیوں کو مذہبی عبادات کی ادائیگی اور اس کے لیے ضروری کتب و اشیاء تک رسائی کا حق دیتے ہیں، سوائے ان حالات کے جہاں واضح اور قابلِ جواز سیکیورٹی خدشات موجود ہوں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قرآن، کتبِ ادعیہ اور تربت پر عمومی پابندی ایک ایسی امتیازی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہے جس کا ہدف ایک مخصوص مذہبی شناخت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، جیلوں کے اندر ہونے والے یہ اقدامات بحرین میں حالیہ مہینوں کے وسیع تر حالات سے الگ نہیں۔ خاص طور پر ماہِ محرم کے آغاز سے عاشورائی جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی شعائر پر متعدد سرکاری پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ متعدد علما، خطباء اور ذاکرین کو طلب، تفتیش اور گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی اور شعائر کی ادائیگی کے حوالے سے موجودہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بحرین میں مذہبی حقوق کی منظم خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کو الگ الگ انتظامی خلاف ورزیوں کے بجائے بحرین میں منظم مذہبی امتیاز کے ایک حصے کے طور پر دیکھیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں، مگر سامنے آنے والے شواہد اور گواہیاں سرکاری مؤقف سے مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ