2 دسمبر 2019 - 19:55
بسم اللہ ایک اور یا حسین

عراق میں حالیہ فتنہ و فساد بپا کرنے والے عناصر نے جو کچھ کیا ہے اور جن مظالم و سفاکیت کے یہ مرتکب ہوئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس بات میں اب کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ داعش ہی کے بچے ہوئے ٹولے سے وابستہ عناصر ہیں اور اگر داعش جیسے تکفیریوں کی طرح انکا قلع قمع نہیں کیا گیا تو یہ اسلامی عراق کو بندھے ہاتھوں امریکہ و اسرائیل کے خون آشام متحدہ وحشیوں اور امریکہ کی جانب سے بٹھائے گئے گماشتوں و سعودی و امارات کی رکابیوں کو چاٹنے والے عناصر کے حوالے کر دیں گے ۔

بقلم حسین شریعت مداری چیف ایڈیٹر روزنامہ کیہان فارسی
ترجمہ : خیبر ٹیم

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کل کی بات ہے بغداد کے میدان تحریر میں مظاہرین میں سے ایک معترض نے یہ فریاد بلند کی ” کیوں سعودی قونصل خانے پر حملہ نہیں کرتے ؟! انہوں نے تو ۵/ہزار تکفیریوں کو عراق بھیجا اور انکے ذریعہ عراقیوں کا قتل عام کروایا ، لیکن ایرانیوں نے تو عراق کے دفاع کے لئے شہدا کے لاشے اٹھائے اپنے خون کو ہمارے خون میں آمیختہ کر دیا ” قیس قریشی ”کی اس فریاد نے چہروں پر ڈھاٹے باندھے فسادیوں کو شدید آشفتہ کر دیا شاید اب تک اس اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو گا اور بعید نہیں کہ” قیس قریشی” کو شہید کر دیا گیا ہو ۔

کل امریکہ کی جانب سے فساد پر مامور ان فسادیوں نے جنکا خرچ آل سعود کی جانب سے دیا جا رہا ہے اور جنکو عراق میں تخریب کاری کے لئے اجیر کیا گیا تھا انہیں فتنہ وآشوب بپا کرنے فسادیوں نے حضرت بقیۃ اللہ الاعظم اراوحنا لتراب مقدمہ الفداء کے پہلے نائب خاص کے مرقد مطہر کو نذر آتش کر دیا ،چند ٹکوں کے خریدے ہوئے بدمعاشوں نے اس سے قبل نجف اشرف میں ایران کے قونصل خانے کو بھی آگ لگا دی تھی، حقیقی اسلام کی علامتوں پر یہ وحشیانہ حملے اس بات میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے کہ عراق میں اقتصادی سدھار کے مطالبے محض ایک بہانہ ہیں جب کہ عراق میں حالیہ ناامنی و فساد کا اصلی مقصد خالص اسلام سے مقابلہ کرنا اور اس انقلاب سے مقابلہ آرائی ہے جس نے امریکہ اور اسکے صہیونی و علاقائی متحدوں کی تھوتھنی مٹی میں رگڑ دی ہے ۔
نجف اشرف میں ایران کا قونصل خانہ اور بغداد میں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے پہلے نائب عثمان بن سعید کا مرقد دونوں ہی ایسے مقامات ہیں جو مزاحمتی محاذ کے روز بروز پھیلتے اثرات کے نمایاں مظہر ہیں اور ان دونوں کو نذر آتش کردینا در حقیقت بدمعاشوں اور آشوب بپا کرنے والے فسادیوں کے چہروں سے نقاب اٹھا کر انکی حقیقت کو واضح کر دینے کے لئے کافی ہے اس کام کے ذریعہ ان بدمعاشوں نے اپنی پہچان بتا دی ہے کہ وہ کون ہیں ۔
کل کی بات ہے بغداد کے میدان تحریر میں مظاہرین میں سے ایک معترض نے یہ فریاد بلند کی ” کیوں سعودی قونصل خانے پر حملہ نہیں کرتے؟! انہوں نے تو ۵/ہزار تکفیریوں کو عراق بھیجا اور انکے ذریعہ عراقیوں کا قتل عام کروایا، لیکن ایرانیوں نے تو عراق کے دفاع کے لئے شہدا کے لاشے اٹھائے اپنے خون کو ہمارے خون میں آمیختہ کر دیا ” قیس قریشی ”کی اس فریاد نے چہروں پر ڈھاٹے باندھے فسادیوں کو شدید آشفتہ کر دیا شاید اب تک اس اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو گا اور بعید نہیں کہ” قیس قریشی” کو شہید کر دیا گیا ہو ۔
ابھی عراق کی عوام نے کہ سیدھے طور پر امریکہ و اسرائیل کی پشت پناہی و حمایت اور سعودی عرب و متحدہ ارب امارات اور کویت کے ڈالروں کے ذریعہ کی جانے والی مدد کی بنیاد پر صدام کی جانب سے ہونے والے قتل و غارت کو فراموش نہیں کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں یقین ہے کہ حالیہ فتنہ و آشوب کے سرے کہاں سے جڑے ہیں اور عراق کے دشمن اس اسلامی ملک کے لئے کیا خواب دیکھ رہے ہیں ۔
کل حضرت آیت اللہ سیستانی حفظہ اللہ نے اپنے ایک بیان میں جسے کربلا کے امام جمعہ جحۃ الاسلام والمسلمین سید احمد صافی نے نماز جمعہ میں پڑھ کر سنایا لوگوں سے اس بات کا مطالبہ کیا کہ فتنہ و آشوب بپا کرنے والے عناصرسے خود کو دور کر لیں امید کی جارہی ہے کہ آیت اللہ سیستانی حفظہ اللہ کی جانب سے یہ درخواست بکے ہوئے بدمعاشوں و فسادیوں کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں نپٹنے کے معنی میں لی جائے گی ۔
موجودہ شواہد و دلائل یہ بتا رہے ہیں اور بعض قابل وثوق رپورٹیں اس بات کو بیان کر رہی ہیں کہ اب تک عراق کی مومن جان ہتھیلی پر لئے انقلابی فورسز کو اس بات کی پریشانی تھی کہ فتنہ و فساد بپا کرنے والے کچھ عام لوگوں کے ساتھ مخلوط ہو گئے تھے اور حشد الشعبی فورسز کی فتنہ و فساد بپا کرنے والے عناصر کے ساتھ مروت بھی اسی وجہ سے تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو ان فسادیوں سے نبٹنے میں عام لوگوں کو نقصان پہنچ جائے اس لئے وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے لیکن اب جبکہ مرجعیت نے واضح طور پر پیغام دے دیا ہے اور مزدور و اجیر فتنہ گروں کی صفیں عراق کے عوام سے جدا ہو گئیں ہیں تو عراق کی مومن و انقلابی فورسز سے ان جوانوں سے جنہوں نے داعش جیسے تکفیری گروہوں کا قلع قمع کر کے ایک لازوال نقش چھوڑا ہے اور حشد الشعبی کے مقدس نام کو مزاحمتی محاذ کے ماتھے پر اپنی جانثاریوں سے کندہ کر کے ایک تاریخ رقم کی ہے ہم اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ اسلامی عراق کو خونخوار و غارت گر دشمن کے پنجوں سے چھڑانے کے لئے ایک لحظے کو بھی نہ گنوائیں ۔
عراق میں حالیہ فتنہ و فساد بپا کرنے والے عناصر نے جو کچھ کیا ہے اور جن مظالم و سفاکیت کے یہ مرتکب ہوئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اس بات میں اب کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ داعش ہی کے بچے ہوئے ٹولے سے وابستہ عناصر ہیں اور اگر داعش جیسے تکفیریوں کی طرح انکا قلع قمع نہیں کیا گیا تو یہ اسلامی عراق کو بندھے ہاتھوں امریکہ و اسرائیل کے خون آشام متحدہ وحشیوں اور امریکہ کی جانب سے بٹھائے گئے گماشتوں و سعودی و امارات کی رکابیوں کو چاٹنے والے عناصر کے حوالے کر دیں گے ۔لہذا ان سب کا قلع قمع ہونا ضروری ہے اور عراق کے انقلابی فرزندوں اور حشد الشعبی کے جان ہتھیلی پر لئے جیالوں اورعراق کی بہادر ومقتدر عوام کے لئے ان بدمعاشوں کو ٹھکانے لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے یہ مل کر بڑی آسانی سے عراق کی سر زمین کو ان فسادیوں سے پاک کر سکتے ہیں اور یہ کام بہت آسانی سے ممکن ہے …
بسم اللہ ایک اور یا حسین …

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ

............

242