17 اگست 2026 - 14:00
غزہ میں جنگ بندی یا نئی آزمائش؟ عوام بدستور بے یقینی کے شکنجے میں

غزہ میں جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں نئی سیاسی و سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم فلسطینی عوام کو تاحال ان کا کوئی عملی فائدہ نہیں پہنچا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی کے لیے قاہرہ میں نئی سیاسی و سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم فلسطینی عوام کو تاحال ان کا کوئی عملی فائدہ نہیں پہنچا۔

حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ اور دیگر رہنماؤں نے مصری حکام اور ثالثوں سے ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ امریکی نمائندے جیرڈ کشنر اور اقوام متحدہ کے رابطہ کار نکولے ملادینوف نے بھی قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں سے مذاکرات کیے۔

حماس کے مطابق مذاکرات کا مقصد اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنا اور طے شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب غزہ کے بے گھر فلسطینی شدید گرمی، پانی کی قلت اور خستہ حال خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق متضاد اطلاعات نے ان کی بے یقینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی انتخابات سے قبل غزہ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے اور کسی جامع حل کے لیے امریکا اور عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل پر مؤثر دباؤ ضروری ہے۔

غزہ کے شہریوں کے لیے جنگ اور نقل مکانی اب عارضی بحران نہیں رہی، بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے؛ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ حقیقی امن اور اپنے گھروں کو واپسی کا دن آخر کب آئے گا؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha