اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیشی پولیس نے جاری کردہ بیان میں دو روہنگیا پناہ گزینوں کو ایک جھڑپ کے دوران مارنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد حکمراں جماعت کے مقامی لیڈر کے قتل کے الزام میں پولیس کو مطلوب تھے۔
تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا ہے، ان نوجوانوں کا عوامی لیگ کے طلبا ونگ کے مقامی رہنما کے قتل سے کچھ لینا دینا نہیں ۔
پناہ گزین کیمپوں میں مقیم تارکین وطن نے عالمی میڈیا سے گفتگو میں شکایت کی کہ موجودہ حکومت خوف پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ہم لوگ واپس میانمار لوٹ جائیں حالانکہ میانمار میں اس وقت بھی روہنگیا مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے۔
واضح رہے کہ 2017ء میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر لاکھوں پناہ گزین میانمار سے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر بنگلا دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے تاہم بنگلا دیش حکومت دو بار تارکین وطن کو وطن واپس بھیجنے کے لیے زور دے چکی ہے۔
/129
25 اگست 2019 - 08:11
News ID: 971376
بنگلا دیش کے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ کے نزدیک پولیس کی فائرنگ سے دو تارکین وطن ہلاک ہوگئے۔