اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بغداد میں پہلا بم دھماکہ مرکزی علاقے میں واقع ایک شاپنگ مال کے سامنے ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ شمالی بغداد میں واقع مقامی بازار اشلال میں ہوا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں 70افراد جاں بحق اور 130 زخمی ہوئے ہیں۔
بغداد میں یہ بم دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ جب بغداد کے مختلف علاقوں میں ان دنوں ماہ رمضان اور رات کے وقت درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے افطار کے بعد لوگوں کا کافی رش ہوتا ہے۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب کافی عرصے سے دارالحکومت بغداد میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے حملوں میں کافی کمی آ چکی تھی۔
داعش کو حالیہ ہفتوں کے دوران الانبار اور موصل صوبوں میں بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بغداد کے مغرب میں تقریبا ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فلوجہ شہر کو بھی عراقی فوج نے ایک مہینے کی لڑائی کے بعد داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔ فلوجہ شہر تیس مہینے تک داعش کے قبضے میں رہا۔
سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بغداد میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو فلوجہ سے کنٹرول کیا جاتا تھا اس لیے ایسا لگتا ہے کہ بغداد میں حالیہ بم دھماکے داعش کی ایک انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے خبردار کیا تھا کہ فلوجہ میں داعش کی عبرتناک شکست کی وجہ سے سیکورٹی فورسز اور عوام کو داعش کے دہشت گردانہ حملوں اور اقدامات سے ہوشیار اور آمادہ رہنا چاہیے۔










۔۔۔۔۔۔۔
/169