اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے بدھ کو ویانا ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی گروپ پانچ جمع ایک اور ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے نئے دور کے بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوزان مذاکرات میں مجموعی مذاکرات کے بارے میں کچھ راہ حل حاصل ہوا ہے جسے پوری تفصیلات سے لکھنے کا کام آج سے شروع ہوگا- عباس عراقچی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حتمی معاہدے کا متن لکھنے کا کام نہایت مشکل ہے کہا کہ ایران کی نظر میں پہلی ترجیح پابندیوں کا مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں حاصل ہونے والے راہ حل کا پوری باریکی سے جائزہ لیا جائے گا اور ہماری کوشش ہے کہ شکوک و شبہات اور سوالات کو کم کیا جائے- ایران کی ایٹمی مذاکراتی ٹیم نے امریکی حکام کے اس بیان کے بارے میں کہ حقیقت پرکھنے کے بعد ہی پابندیوں کو مرحلہ بہ مرحلہ اٹھایا جائے کہا کہ ایران کی نظر میں جس چیز کے بارے میں معاہدہ ہوا ہے اور جو چیز اصلی ہے وہ یہ ہے کہ تمام اقتصادی اور مالی پابندیاں اسی دن اٹھالی جائیں جس دن معاہدے پر عمل در آمدشروع ہو- عباس عراقچی نے کہا کہ یورپی یونین ، امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر عائد ہرطرح کی پابندیاں منسوخ کرنا وہ کام ہے جو ابھی سے انجام پانا چاہئے- ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کا نیا دور تین دن تک جاری رہے گا اور مذاکرات آئندہ بھی جاری رہنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا- ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور بدھ سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہو رہا ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲