اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی حکومت کے حامیوں نے یمن پر جارحیت روکے جانے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا مخصوصا ٹویٹر پر سعودی عرب کے یمن میں شکست کھانے کے سسلسلے میں اعتراف کیا۔
سعودی حکومت کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ سعودی عرب کی طوفانی کاروائیاں اپنے مقاصد کو پانے میں ناکام ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے رہبروں سے پوچھا کہ کیسے یمن میں کامیابی کی بات کی جا رہی ہے جبکہ انصار اللہ یمن میں پیشرفت کی طرف گامزن ہے؟َ

سعودی حامیوں نے ٹویٹر پر اپنے مخصوصا صفحوں پر لکھا ہے:
’’ ایسے حال میں کہ حوثی، عدن اور صنعا میں موجود ہیں اور سعودی سرحدوں کو دھمکائے جا رہے ہیں اور یمن کے مستعفیٰ صدر ہادی منصور کو ملک سےباہر نکال رکھا، ہماری حکومت اس ملک میں کامیاب طوفانی کاروائیوں کے مکمل ہونے کی بات کر رہی ہے؟‘‘
’’ اگر آئندہ دنوں میں حوثیوں نے عقب نشینی نہ کی اور یمن کی جائز حکومت اپنے اقتدار پر واپس نہ لوٹی تو یہ سعودی عرب کے لیے یمن میں بڑی شکست ہو گی‘‘۔
سعودی عرب کی ثقافتی شخصیتوں نے تاکید کی کہ سعودی حکومت یمن پر تین ہفتے ظلم روا رکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کی یہ حملے بے فائدہ ہیں اور اسے اس ملک میں شکست کا سامنا ہے۔ یہ حکومت جس کامیابی کی بات کر رہی ہے وہ یمن کی میدانی صورتحال کے پیش نظر خلاف واقع ہے۔ سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی بمباری کے سائے میں یمن کی فوج اور انصار اللہ کا مزاحمت سے کام لینا اور حتی ایک گھنٹے کے لیے بھی پیچھے نہ ہٹنا یقینا ان کی کامیابی کا اعلان ہے ان کا ابھی بھی یمن کے اکثر علاقوں پر قبضہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲