اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ اپنے بچوں کی لاشوں کی شناخت کے لیے قتل عام کے مقام کی طرف روانہ ہو گئے ہیں- ابھی تک اس جرم کے آثار موجود ہیں اور دہشت گرد گروہ داعش نے جو ویڈیو جاری کی تھی اس کے مطابق یہ قتل عام تکریت میں ایک صدارتی محل میں کیا گیا اور فوجیوں کے سروں میں گولیاں مارنے کے بعد ان کی لاشوں کو دریائے دجلہ میں ڈال دیا گیا- عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ایک عہدیدار شیخ حیدر الخفاجی نے اس بارے میں العالم کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جن جوانوں کا قتل عام کیا گیا وہ غیرمسلح تھے اور ان کے پاس کسی قسم کا کوئی ہتھیار نہیں تھا اور دفاع کے موقع پر وہ اپنا ذاتی لباس پہنے ہوئے تھے- قتل عام کے مقام کے قریب ہی اس قتل عام کا شکار ہونے والوں کی اجتماعی قبریں بھی ملی ہیں- تکریت کے قریب دریافت ہونے والی ان اجتماعی قبروں کے علاوہ بوعجیل کے علاقے میں بھی کئی اجتماعی قبریں ملی ہیں-
.......
/169