اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعرات کو ماسکو میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطی کے امور میں روسی صدر کے خصوصی نمائندے میخائیل بوگدانف سے ملاقات میں کہا ہے کہ بعض ممالک جو خودسرانہ کارروائیوں سے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتے ہیں اس سے امن عالم کو کوئی تقویت نہیں ملتی ہے- امیر عبداللہیان نے کہا کہ فضائی حملے اور جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن جنگ کا خاتمہ ایک مشکل کام ہے- انہوں نے کہا کہ فوجی مداخلت سے یمن اور علاقے میں انتہا پسندی اور دہشتگردی میں اضافہ ہو گا- انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف جاری تمام فوجی اقدامات فوری طور پر روکے جائیں- ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یمن کے تمام گروہوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مذاکرات کا آغاز کریں- ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کے گروہ باہمی مذاکرات سے بحران کا حل نکال سکتے ہیں- انہوں نے کہا کہ تشدد کے باوجود یہ مذاکرات ہی ہیں جن سے مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے- اس رپورٹ کے مطابق بان کی مون کو اگرچہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا لیکن انہوں نے سعودی عرب کے اس اقدام کے بارے میں واضح طور پر کوئی موقف نہیں اپنایا ہے- بان کی مون نے آل سعود کے وزیر خارجہ سے یمن کے حالات کے بارے میں ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے-
دوسری جانب عراق اور شام کی وزارت خارجہ نے بیانات جاری کرکے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی مذمت کی ہے- شام کی وزرات خارجہ نے یمن کی قوم کے حق خود ارادیت اور اس کی خود مختاری کے احترام پر تاکید کی ہے جبکہ عراق نے عرب ملکوں سے کہا ہے کہ یمن میں قومی مذاکرات شروع کروانے کے لئے کردار ادا کریں- ادھر جرمن وزیر خارجہ اشتائن مائر نے یمن میں سعودی عرب کی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یمن کے حالات کو خطرناک قرار دیا ہے- انہوں نے یمن میں جاری تشدد کے خاتمے کے لئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے- یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب امریکہ نے یمن پر آل سعود کی جارحیت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے- امریکہ نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں اور ریاض کی تشویش کو سمجھتا ہے- امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جیف راتکے نے کہا کہ اگرچہ امریکہ بحران یمن کو مذاکرات سے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن سعودی عرب کی اس تشویش کو بھی سمجھتا ہے کہ اسے اپنی سرحدوں پر خطرات لاحق ہیں- ادھر اطلاعات ہیں کہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی بھاگ کر ریاض پہنج چکے ہیں- سعودی عرب کے ٹی وی نے خبر دی ہے کہ یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی ریاض پہنچ چکے ہیں- یمن کے مفرور صدر منصور ہادی عدن کی طرف انقلابیوں کی پیش قدمی کے موقع پر نامعلوم مقام پر روپوش ہو گئے تھے- قابل ذکر ہے کہ یمن میں دسیوں ہزار افراد نے احتجاجی مظاہرے کر کے یمن پر سعودی عرب اور ا سکے پٹھو ممالک کی جارحیت کی مذمت کی- مظاہرین نے امریکی سعودی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادگی کا اعلان کیا-
.......
/169