اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک ایسے وقت جب یمن میں نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں بعض خبری ذرائع کا کہنا ہے کہ عبوری صدارتی کونسل کی تشکیل کے مسئلے پر یمن کے سیاسی گروہوں کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ کہا جا رہا ہےکہ اس پانچ رکنی صدارتی کونسل میں ایک رکن اللقاء المشترک پارٹی، ایک رکن المؤتمر الشعبی پارٹی، ایک رکن انصار اللہ تحریک، ایک رکن الحراک الجنوبی پارٹی اور پانچواں رکن تمام فریقوں کی رضامندی کی صورت میں جنوبی یمن سے ہو گا۔ صدارتی کونسل کے قیام کی تجویز اس سےقبل عبوری دور کے لیے ایک آپشن کے طورپر پیش ہوئی تھی جس کی یمن کی چند ایک جماعتوں نے مخالفت بھی کی تھی- لیکن ایسا لگتا ہےکہ تحریک انصار اللہ اور یمن کے اصل سیاسی گروہوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں سیاسی میدان میں ایک سمجھوتہ ہونےکا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ اگرچہ خبری ذرائع نے اعلان کیا ہے اصلاح پارٹی اور ناصری پارٹی نے یمن کی صدارتی کونسل کی تشکیل کے بارے میں ابتدائی اتفاق رائے پر بہت زیادہ اطمینان کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن موجودہ صورت حال میں جب درحقیقت ملک میں سیاسی خلا موجود ہے عبوری صدارتی کونسل کی تشکیل کے بارے میں ابتدائی اتفاق رائے ایک مضبوط پہلو سمجھا سکتا ہے۔ خصوصا اس لیے کہ صدارتی کونسل نئی حکومت کے ڈھانچے میں سیاسی گروہوں کی شراکت کی علامت سمجھی جائے گی۔ ایک اور نکتہ جو اہمیت کا حامل ہے وہ یہ ہے کہ کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر یمن کی صدارتی کونسل کی سربراہی جنوبی یمن کے نمائندے کے پاس ہو گی۔ جنوبی یمن اس وقت مستعفی صدر منصور ہادی اور ان کی کابینہ کے مستعفی وزراء کی ملک کے خلاف سازشوں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن تحریک انصار اللہ نے منصور ہادی کے ان اقدامات کے مقابلے میں ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی یمن کے گروہوں کو بھی موجودہ حالات کے بارے میں مشاورت اور صلاح و مشورے میں شامل کیا ہے۔ بہرحال اس وقت یمن میں عوامی تحریک انصاراللہ اور مستعفی صدر منصورہادی کے درمیان ایک طرح کا مقابلہ اور محاذ آرائی بھی شروع ہوگئی ہے۔ ایسی محاذ آرائی جس میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جمال بن عمر بھی خود کو غیر جانبدار نہیں ر کھ سکے ہیں اور وہ کبھی دانستہ اور کبھی نادانستہ طریقے سے منصورہادی کی سازشوں کی حمایت کرکے یمن کے بحران کو ہوا دے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲