26 جنوری 2015 - 17:29
ڈی ایٹ گروپ کے وزرائے صنعت کا تہران میں اجلاس

ڈی ایٹ گروپ کے وزرائے صنعت کا اجلاس آج سے تہران میں شروع ہوا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ڈی ایٹ گروپ کے وزرائے صنعت کا اجلاس آج سے تہران میں شروع ہوا۔ یہ اجلاس اٹھائيس جنوری تک جاری رہے گا۔ ڈی ایٹ آٹھ ترقی پذیر اسلامی ملکوں کی تنظیم ہے۔ یہ اجلاس پٹروکمیکل، سیمنٹ، زرعی صنعتوں، اور آئرن اینڈ اسٹیل شعبوں کے ورکنگ گروپوں کی کارکردگی بڑھانے کی غرض سے ہورہا ہے۔ اس اجلاس میں انرجی، جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ورکنگ گروپ تشکیل دینے اور پہلے سے موجود ورکنگ گروپوں کی کارکردگي کا جائزہ بھی لیاجائے گا۔ ڈی ایٹ گروپ  کی داغ بیل ترکی کے سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی تجویز پر انیس سو ستانوے میں ڈالی گئي تھی۔ اس کے بنیادی مقاصد میں رکن ملکوں کے مابین اقتصادی تعاون میں فروغ لانا اور  عالمی اقتصاد میں ترقی پذیر اسلامی ملکوں کی پوزیشن بہتر بناناہے۔ رکن ممالک کے درمیان اسلام کے کردار کو فروغ دینا، اقتصادی، تجارتی اور صنعتی  اھداف اور عالمی سطح پر چیلنجوں اور خطروں کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون بڑھانا اس تنظیم کے مجموعی اھداف میں شامل ہے۔ ڈی ایٹ گروپ کے ملکوں کی آبادی تقریبا ایک ارب افراد پر مشتمل ہے اور ان کے پاس عظیم زیر زمین ذخائر اور معدنیات پائے جاتے ہیں اور یہ ممالک عالمی سطح پر طاقتور بلاک میں تبدیل ہونے کی توانائي رکھتے ہيں۔ اس تنظیم میں اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، بنگلادیش، ملایشیا، مصر اور نائجیریا شامل ہیں۔ ڈی ایٹ گروپ نے اب تک ترکی، بنگلادیش، مصر، ایران ، انڈونشیا، ملیشیا اور پاکستان میں سربراہی  اجلاس منعقد کئے ہیں۔ سال میں ایک بار اس گروپ کا سربراہی اجلاس ہوتا ہے جس میں وزرائے خارجہ بھی شریک ہوتے ہیں جبکہ ماہرین کی سطح کے اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ڈی ایٹ گروپ کے سینئر ماہرین کی کمیٹی نے ترکی کے شہر آنتالیا میں اپنی تیسری نشست میں دس ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیاتھا جس کا مقصد باہمی تعاون کے مواقع کا جائزہ لینا تھا۔ صنعت ڈی ایٹ گروپ کی بنیادی ترجیح ہے اسی وجہ سے ماہرین نے تہران نشست کو اہم قراردیا ہے۔ عالمی بینک کی تقسیم بندی کے مطابق ڈی ایٹ گروپ کے ملکوں کو ان کی اقتصادی خصوصیات کی بنا پر تین گروہوں میں بانٹا جاسکتا ہے، پہلا گروہ تیل فروخت کرنے والے ملکوں کا ہے جس میں ایران، انڈونیشیا اور نائجیریا شامل ہیں اور دوسرا گروہ متوسط آمدنی والے ملکوں کا گروپ ہے جس میں  پاکستان ملایشیا اور مصر شامل ہيں۔ تیسرا گروہ ان ملکوں کا ہے جو کم ترقی یافتہ ہیں اور ان کی آبادی زیادہ ہے۔ ان ملکوں میں صرف بنگلادیش آتا ہے۔ ڈی ایٹ گروپ ملکوں کی معشیتیں ایسی ہیں جو ایک دوسرے کو مکمل کرسکتی ہیں اور باہمی تعاون کی صورت میں بڑی حد تک ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرسکتی ہيں۔ مثال کے طور پر ترکی، بنگلادیش اور پاکستان و ملایشیا زیادہ تر صنعتی مصنوعات کی برآمدات کرتے ہیں۔ جبکہ یہ ممالک ایک یا کئي زرعی مصنوعات بھی ایکسپورٹ کرتے ہيں۔ ادھر ایران، انڈونشیا اور نائجیریا تیل اور تیل کی مصنوعات  اور پیٹروکیمیکل مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک ہيں۔ جب ہم ڈی ایٹ گروپ کی درآمدات سے برآمدات کا مقابلہ کرتے ہیں تو یہ نتیجہ حاصل کیاجاسکتا ہے کہ ان ملکوں کی بیرونی تجارت زیادہ تر صنعتی مصنوعات پر منحصر ہے، دراصل یہ کہنا چاہیے کہ جی ایٹ گروپ کی داخلی پیداوار اور بیرونی تجارت متنوع چيزوں پر مشتمل ہے۔ قابل ذکرہے تہران نشست کا ایک بنیادی ھدف ڈی ایٹ گروپ کی صنعتی ضرورتوں کو پورا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ ڈی ایٹ گروپ کے مابین تعاون کے تجربوں سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ تہران نشست اس گروہ کے اراکین کی توقعات میں سے کچھ تو پورا کرہی سکتی ہے۔

.............

242