اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ، پاکستان اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 3 طلاقیں، 3 مختلف اوقات میں دی جا سکتی ہیں، اس لیے اسے جرم قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے تاہم بیک وقت ایسا کرنے والے کے لئے سزا متعین کرنے کا اختیار عدالت پر چھوڑا گیا ہے۔ اس بارے میں جامعہ بنوریہ کے سربراہ مفتی نعیم نے کہا کہ طلاق کا عمل اسلام میں ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مفتی نعیم کے مطابق بیک وقت تین طلاق دینا اسلام میں 'طلاق بدعت' کہلاتا ہے اور اگرچہ اسے شریعت میں ناپسند کیا گیا ہے تاہم اسے جرم کہنا درست نہیں ہے۔ مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھاکہ پہلی طلاق پررجوع کافی ہے،دوسری طلاق پردوبارہ نکاح کرناہوگا۔
.......
/169