اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے اتوار کو تہران میں اقتصادیات سے متعلق پہلے اجلاس میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ معیشت اجارہ داری کے ذریعے ترقی نہيں کر پاتی کہاکہ آج کا دور معاشی میدان میں مقابلے اور کمپٹیشن کا دور ہے۔
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کی معیشت کے بارے میں کہا کہ ملک میں اقتصادی پیشرفت کا دورشروع ہوچکا ہے لیکن اہم یہ ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔
ایران کے صدر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں پائیدار، مسلسل اور ہمہ گیر ترقی کو پورے ماحول پر محیط ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہيں ہوسکتا کہ اقتصادی اعتبار سے ملک ترقی کرے اور خارجہ پالیسی کے میدان میں کٹ کر رہ جائے۔
صدر ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ سیاسی تجربہ یہ کہتا ہے کہ ملک اگر الگ تھلگ ہے تو وہ مسلسل ترقی نہيں کرسکتا البتہ اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ ہم اپنے اصولوں اور نظریات سے دستبردار ہوجائيں۔
صدر روحانی نے کہا کہ آج کی دنیا مفادات پر بات چیت کرنے کی دنیا ہے - انہوں نے کہا کہ دھمکیاں ، مواقع اور مشترکہ مفادات ہی خارجہ پالیسی پر بحث کی بنیاد ہیں۔ صدر روحانی نے کہا کہ اصول و نظریات پر خارجہ پالیسی میں بحث نہيں ہوتی ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت کے سامنے کوئی مشکل مسئلہ پیش آجائے تو اس کو کھل کر عوام کے سامنے رکھنا چاہئے - صدر ڈاکٹر روحانی نے تیل کی قیمتوں میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ملک کی معیشت کی بنیاد تیل کی ہی آمدنی ہو تو یہ مشکلات جوں کی توں باقی رہیں گي۔
واضح رہے کہ ایران کی پہلی قومی اقتصادی کانفرنس اتوار کو تہران میں صدر روحانی کی تقریر سے شروع ہوئی۔
یہ کانفرنس دو روز تک جاری رہے گی جس کے دوران پائیدار معیشت ، روزگار کے مواقع کی فراہمی ، استقامتی معیشت ، افراط زر کی شرح میں کمی کی پالیسیوں پر عمل درآمد ، سبسیڈی اور انرجی کی منڈیوں میں اصلاح جیسے اہم موضوعات پر بحث ہوگی۔
.......
/169