اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم حیدرالعبادی نے صوبہ بصرہ کی پولیس اور سیکورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ تین اہلسنت آئمہ جماعت کو قتل اور دو کو زخمی کئے جانے کے واقعے میں ملوث افراد کا پتہ لگاکے انہیں گرفتار کیا جائے –
انہوں نے اسی کے ساتھ کہا ہے کہ بصرے کے عوام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی دہشتگردوں کی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے - انہوں نے بصرے میں اہلسنت علمائے دین پر دہشتگردانہ حملے کا مقصد عراقیوں میں تفرقہ ڈالنا اور فرقہ واریت پھیلانا بتایا ہے -
انہوں نے کہا کہ بصرے میں بدامنی اور دہشتگردی پھیلانے والوں کی، سختی کے ساتھ سرکوبی کی ضرورت ہے -
اسی کے ساتھ بصرے میں علمائے اہلسنت کی جماعت کے ایک سینئر رکن یوسف الحمدانی نے بتایا ہے کہ عراق کے بزرگ عالم دین اور مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی نے بھی تاکید کی ہے کہ آئمہ مساجد پر دہشتگردانہ حملوں میں ملوث افراد کا پتہ لگاکے انہیں قانون کے حوالے کیا جائے -
انہوں نے بصرے میں آیت اللہ العظمی سیستانی کے نمائندے محمدفلک کے کردار کو قابل تعریف بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرقے پر الزام نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ اس دہشتگردانہ حملے کا مقصد عراقی عوام میں تفرقہ ڈالنا اور فرقہ واریت پھیلانا ہے - قابل ذکر ہے کہ بصرے کی سیکورٹی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کی رات نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں بصرے کے تین اہلسنت علمائے کرام جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے -
.......
/169