اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادي کو اس کے عہدے سے برطرف کرديا گياہے ۔ عراق کے الفرات ٹيلي ويژن چينل نے خبردي ہے کہ داعش کے ترجمان ابومحمد العدناني نے ايک بيان ميں جو اسکي کي آواز ميں نشر کيا گيا ، کہا ہےکہ ابوبکر البغدادي چونکہ ميدان جنگ سے فرار کرگيا ہے اس لئے اس کو داعش کي سربراہي سے برطرف کرديا گيا ہے ۔ داعش کے ترجمان نے کہا کہ اس گروہ کے افراد نے سعودي عرب کے ايک شخص کو داعش کا سربراہ بنانے کا فيصلہ کيا ہے ۔ واضح رہے کہ داعش کا سرغنہ ابوبکرالبغدادي جو بغداد پر قبضہ کرنے کي اپني کوشش ميں ناکام رہا ہے تقريبا ايک سو گاڑيوں کے ساتھ وہ عراق کے شہر موصل سے شام فرار کرگيا ہے ۔ ترکي کے ذرائع ابلاغ نے بھي خبردي ہے کہ ابوبکرالبغدادي نے خليج فارس تعاون کونسل کے رکن عرب ملکوں کے کچھ تاجروں کے ہمراہ دوسرے ملکوں ميں سرمايہ کاري کي غرض سے تين سو ملين ڈالرکي رقم باہر بھيجي ہے ۔
دوسري طرف عراقي فوج کے جنگي طياروں نے صلاح الدين اور الانبار صوبوں کے کئي علاقوں ميں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شديد بم باري کي۔ عراق کے ايک سيکورٹي اہلکار نے اس خبر کي تصديق کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں ميں چھياسٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے اور ان کي گيارہ گاڑياں تباہ ہوگئيں۔ عراقي فضائيہ کے جنگي طياروں نے اسي طرح شام کي سرحد سے ملحقہ القائم نامي علاقے ميں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے جس ميں پچپن دہشت گرد ہلاک ہوئے۔عراقي فوج نے عوامي رضاکاروں اور پيشمرگہ مليشيا کے تعاون سے داعش کے زير قبضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے وسيع آپريشن شروع کر رکھا ہے جس کے دوران اب تک متعدد علاقے دہشتگردوں کے وجود سے پاک کر ديئےگئے ہيں ۔
ايک اور رپورٹ کے مطابق عراقي فضائيہ کے جنگي طياروں نے اسي طرح تکفيري دہشتگردوں کو لے جانے والي دو بسوں پر بمبار کردي جس ميں نوے دہشتگرد ہلاک ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں ميں مختلف عرب ملکوں اور چچنيا کے تکفيري دہشتگرد شامل ہيں ۔
عراق کے فوجي ذرائع نے بتايا ہے کہ بغداد اور فضائيہ کي عين الاسدنامي چھاؤني کے درميان فضائي رابطہ قائم ہونے کے بعد اس فوجي چھاؤني ميں عوامي رضاکار فورس اور قبائلي لشکر کے ہزاروں افراد ايک بڑے آپريشن ميں حصہ لينے کے لئے جمع ہوگئے ہيں ۔
اس رپورٹ کے مطابق صوبہ الانبار کي البغدادي فوجي چھاؤني ميں بھي بڑي تعداد ميں مختلف قبائلي سے تعلق رکھنے والے افرادداعش کے مقابلے ميں جنگ ميں حصہ لينے کي غرض سے جمع ہوگئے ہيں جن ميں قبيلہ البونمر کے لوگ بھي شامل ہيں۔ صوبہ الانبار کي انتظاميہ نے بتايا ہے کہ داعش کے خلاف آپريشن کے لئے عراق کے چاليس قبيلوں کے پانچ ہزار پانچ سو جنگجوؤں پر مشتمل لشکر تيار ہوگيا ہے ۔
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ امريکي وزارت جنگ کے ترجمان نے داعش کے مقابلے ميں عراق کي فوج اور عوامي رضاکاروں کي اہم پيشرفت کا اعتراف کيا ہے ۔ امريکي وزارت جنگ پينٹاگون کے ترجمان جان کربي نے سي اين اين سے انٹرويو ميں کہا کہ عراق کے سني آبادي کے علاقے البونمر ميں داعش نے قبائلي عوام کا وحشيانہ انداز ميں قتل عام کيا ۔ انہوں نے داعش اور ديگر دہشتگرد گروہوں کي امريکا کي جانب سے حمايت کا کوئي ذکر کئے بغير کہا کہ داعش کي وحشيانہ کارروائيوں ميں مارے جانے والوں کي صحيح تعداد نہيں بتائي جاسکتي ۔ انہوں نے اسي کے ساتھ داعش کے مقابلے ميں عراقي افواج کي کاميابيوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ عراقي فضائيہ نے بھي کاميابي کارروائياں انجام دي ہيں ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عراقي فضائيہ کے حملے محدود ہيں ليکن ان حملوں سے عراقي فضائيہ کي توانائيوں کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے اعتراف کيا کہ اس وقت پورے عراق ميں داعش کے خلاف عوام کے اتحاد کا مشاہدہ کيا جارہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169