اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی تكفيری دھڑوں کے درمیان گہرے روابط رکھنے والے ایک ذرائع نے کہا کہ داعش کے سرغنہ ان برطانوی شہریوں کو دھمکی دے رہے ہیں جو وطن لوٹنا چاہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ گروہ چھوڑ کر جانے کی خواہش رکھنے والے برطانوی شہریوں کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
یہ خبرشام میں حراول دستے میں برطانوی شہر پورٹس ماوتھ کے ایک تكفيري کے مارے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ ان چھ لوگوں کے گروہ کا چوتھا آدمی جو داعش کی جانب سے لڑنے کے لئے شام گیا تھا۔
در ایں اثنا گوانتانامو جیل کے سابق قیدی معظم بیگ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسے درجنوں برطانوی کے بارے میں پتہ ہے جو شام اور عراق میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ برطانیہ لوٹنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس گروپ نے روک رکھا ہے جسے وہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ بیگ نے کہا کہ اسے پتہ ہے کہ وہ تیس سے زیادہ ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں۔ وہ بشار اسد کے خلاف لڑ رہے باغی گروہ میں شامل ہونے گئے تھے لیکن بعد میں زبان کی وجہ سے داعش میں شامل ہو گئے۔ داعش میں انگریزی بولنے والے بہت سے دہشت گرد ہیں۔
شام میں پورٹس ماؤتھ کا 19 سالہ محمد مہدی حسن جمعے کو جھڑپ میں مارا گیا۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ شام کے سرحدی شہر كوباني پر داعش کے حملے کے دوران مارا گیا۔
برمنگھم سے 46 سالہ بیگ نے برطانوی حکومت سے اپیل کی ہے کہ شام اور عراق سے لوٹنے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرے اور ڈنمارک کی طرح ان کی اصلاحات پروگرام چلائے جس نے واپس لوٹنے والوں کو سزا کے بجائے پھر سے معمول کی زندگی گزارنے میں مدد کی ہے ۔ بیگ نے کہا کہ شام اور عراق میں موجود برطانوی جنگجوؤں نے ان سے رابطہ کیا تاکہ برطانوی حکومت پر دباؤ ڈالوں کہ وہ گمراہ جنگجوؤں کی وطن واپسی میں لچک کا مظاہرہ کرے۔
.......
/169