اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مغربی صوبہ الانبار میں واقع اس قصبے کا داعش کے دہشتگردوں نے گذشتہ ایک ہفتے سے محاصرہ کر رکھا ہے اور اب عراقی فوج ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عراقی فوج کے ذرائع کے مطابق داعش کے قریباً چار سو دہشتگردوں نے دوقصبوں عامری الفلوجہ اور کرامہ پر منگل کے روز دھاوا بولا تھا اور وہ اس مغرب سے دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہے ہیں۔عراقی فوج نے عامری الفلوجہ سے داعش کے دہشتگردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے اور انھوں نے حملہ آوروں کی پانچ گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم فوری طور پر عراقی فوج اور داعش کے درمیان جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور فوج نے بظاہر دہشتگردوں کی پیش قدمی روک دی ہے۔ مغربی صوبے الانبار کے ایک اور قصبے ہیت سے بھی عراقی فوج اور داعش کے دہشتگردوں کے درمیان لڑائی کی اطلاع ملی ہے۔ بغداد سے ایک سو تیس کلو میٹر مغرب میں واقع اس قصبے پر اکتوبر کے اوائل میں داعش کے دہشتگردوں نے قبضہ کر لیا تھا۔
واضح ہو کہ الانبار کا سب سے بڑا فضائی اڈا عین الاسد اور حدیثہ ڈیم اسی قصبے کے نواح میں واقع ہے۔تاہم عراقی فورسز کے بعض حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر داعش کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی نہیں کی گئی تو پھر کوئی بھی انھیں پورے صوبے الانبار پر کنٹرول کرنے سے نہیں روک سکے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲