اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کی وزارت خارجہ کی جانب سے لکھے گئے ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ شام نے عالمی برادری کو گزشتہ چار سال کے دوران بارہا ان دہشت گردوں کے خطروں کی بابت خبردار کیا ہے جنہوں نے اس ملک کے اقتصادی، سماجی اور سیاسی شعبوں کو نشانہ بنایا۔ شام کی وزارت خارجہ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ حکومت دمشق نے دہشت گرد تنظیموں کے حامی کی حیثیت سے غیرملکی طاقتوں کی مداخلت آمیز پالیسیوں کے بارے میں بھی بارہا خبردار کیا ہے۔
شام نے کہا ہے کہ ان حکومتوں نے جن میں ترکی کی حکومت شامل ہے، ناچیزسیاسی مفاد کو پورے کرنے کے لئے دہشت گرد تنظیموں کا سہارا لیا اور یہ سچائی بعد میں کئی ممالک کے اعلی حکام کی زبان سے بھی بیان کی گئی۔
شام کی وزارت خارجہ نے اپنے خطوط میں کہا ہے کہ ترکی اور دیگر ممالک کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی حمایت، شام کے بحران کے طولانی ہونے اور زیادہ جانی و مالی نقصان کا سبب بنا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ بحران شروع ہونے کے وقت سے ہی ترکی نے شام کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لئے منصوبہ بند کاروائیاں کیں اور دہشت گرد تنظیموں کی سیاسی، مالی اور لوجیسٹک مدد کی اور ان تنظیموں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کئے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ترکی اس دہشت گردی کا اڈہ بن گیا ہے جو شام اور عراق پر حملے کر رہی ہے اور علاقے کے دیگر ممالک کے لئے سنگین خطرے پیدا کر رہی ہے۔ خط کے مطابق كوباني شہر پر جو حملہ ہوا ہے وہ ترکی اور دہشت گرد گروہ داعش کے درمیان گہرے تعلقات کی واضح مثال ہے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام کے اندر بفر زون قائم کروانے کی ترکی کی کوششیں اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جن میں ممالک کی قومی خود مختاری کا احترام کئے جانے پر زور دیا گیا ہے۔
.......
/169