اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ کئي برسوں سے دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ جب پاکستان امن کا گہوارہ تھا اور کبھی کبھار کہیں اکا دکا لڑائی اور دنگا فساد کی خبریں موصول ہوتی تھیں کہ جن میں زیادہ سے زیادہ لاٹھی اور چاقو خنجر وغیرہ کا استعمال ہوتا تھا گولی چل جانا تو بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔ لیکن ایک دن وہ بھی آیا کہ جب روس افغانستان میں داخل ہوا اور افغان باشندے اپنے ملک سے نکل کر ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے لگے جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمرانوں نے موقع کو غنیمت جانا اور بعض ذاتی مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کی ایک ایسی جنگ کی آگ میں جھونک دیا کہ جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کل تک جہاں لاٹھی اور خنجر بڑے ہتھیار سمجھے جاتے تھے وہاں ان کی جگہ کلاشنکوف اور آتشیں ہتھیاروں نے لے لی۔ حکومت پاکستان نے بھی افغان مہاجرین کو کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں پورے پاکستان میں کھل کھیلنے کی اجازت دی جنہوں نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر قبضہ جما لیا بلکہ پورے پاکستان میں اسلحہ عام کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی ساتھ اس زمانے میں ایک مخصوص مذہبی فرقے کی بھرپور پشت پناہی کی گئی جس میں عرب ممالک خاص طور پر ایک اہم عرب ملک نے بھرپور حصہ ڈالا۔ جس کا نتیجہ فرقہ واریت کی صورت میں برآمد ہوا اور پورے ملک میں فرقہ واریت کی آگ پھیل گئی۔
پاکستان میں جاری دہشت گردی اور اس کے خطرات کے بارے میں جب ہمارے ساتھی نے پاکستان کے معروف تجزیہ نگار یحیی بن زکریا سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا۔
یحیی بن زکریا کا تفصیلی انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے۔
امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد تو پوری دنیا کے حالات ہی تبدیل ہو کر رہ گئے۔ ایک منظم استعماری سازش کے تحت اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا گيا اور مقصد کے لیے فریب خوردہ، جاہل اور انسانیت سے عاری افراد کو مذہب کےنام پر استعمال کیا گيا کہ جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ کل تک القاعدہ کے روپ میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ایک دشمن موجود تھا تو آج داعش کو آگے لایا گیا ہے۔
وہ پاکستان کہ جہاں ایک زمانے میں فوج کا دبدبہ تھا اور ہر طرف اس کا طوطی بولتا تھا، وہاں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہی نشانے پر لے لیا گیا۔ پاکستانی فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وہ کون سا اہم دفتر اور ٹھکانہ تھا کہ جسے نشانہ نہیں بنایا گیا۔بری فوج ہو یا فضائیہ، بحریہ ہو یا خفیہ اداروں کے دفاتر سب پر حملہ کیا گیا حد تو یہ ہو گئی کہ پاک فوج کے راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹر کو بھی دہشت گردی کے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن آفرین ہے پاکستان کی فوج اور سیاستدانوں پر کہ جن دہشت گردوں نے پورے ملک اور اس کی اتھارٹی کو پوری دنیا میں تماشا بنا کے رکھ دیا انہیں کو اپنا کہا جا رہا تھا اور ان کے خلاف کارروائي کر کے انہیں ان کے حقیقی انجام تک پہنچانے کے بجائے ان کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
پاکستان کے پورے قبائلی علاقے عملا دہشت گردوں کے حوالے کر دیے گئے تھے اور وہ ان علاقوں میں اپنے ٹھکانے قائم کر کے پورے پاکستان کو اپنے نشانے پر رکھے ہوئے تھے اور اب کی کارروائياں صرف دہشت گردانہ اقدامات تک محدود نہیں تھیں بلکہ یہ دہشت گرد ملک کے اہم شہروں میں بینک ڈکیٹی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں بڑی دیدہ دلیری سے انجام دے رہے تھے اور کوئي ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں تھا۔ اس دیدہ دلیری کی انتہا دیکھیے کہ ان دہشت گردوں نے ملک کے اہم علاقوں میں واقع جیلیں توڑ کر اپنے ساتھی ہزاروں دہشت گردوں کو رہا کروا لیا اور کوئي ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ ان کے افراد کو آج تک پھانسی نہیں ہوئی اور آخرکار وہ عدالتوں کے توسط سے آسانی سے رہا بھی ہو گئے۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس قسم کی حکومتی رٹ اور عدالتی کارروائی سے دہشت گردی کے رکنے کی امید کی جا سکتی ہے؟
پاک فوج نے چند سال قبل سوات آپریشن کر کے دہشت گردوں کو اس علاقے سے باہر دھکیل دیا تھا لیکن ختم نہیں کیا تھا اور اب شمالی وزیرستان میں ان کے خلاف فوجی آپریشن کیا جا رہا ہے کہ جس کے بارے میں خبریں صرف فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے توسط سے ہی منظر عام پر آ رہی ہیں جن کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن میں جتنی تاخیر کی گئي اس سے دہشت گردوں کو اس علاقے سے اپنے آپ نکالنے کا بہترین موقع میسر آیا اور اب فوج کے سامنے دہشت گردوں کے صرف چند بچے کھچے افراد مزاحمت کر رہے ہیں اصلی دہشت گرد اور ان کے سرغنہ آرام سے ان علاقوں سے نکل کر دوسرے علاقوں میں جا چکے ہیں۔
بہرحال پاک فوج نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ فوج ایک جامع پلان کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی ختم کرے گی۔ اگر فوج واقعی یہ تہیہ کر لے تو پھر پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔
.......
/169