اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجانے کے باعث پانی میں ڈوبے علاقوں میں امدادی کام متاثر ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سرینگر اور وادی کے دوسرے علاقوں میں بجلی کی کڑک اور بادل کی گرج کے ساتھ بارش شروع ہوگئی ہے۔ وادی میں مسلسل بارش سے ایسا شدید سیلاب آیا کہ جس کی کوئي مثال نہيں ملتی ۔ شدید بارش کے بعد پانچ دن تک موسم صاف رہا۔ سری نگر کے ڈپٹی مجسٹریٹ سید عابد رشید شاہ نے بتایا کہ بگڑتے موسم سے مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ اب بھی زیادہ تر لوگ سڑکوں پر بغیر کسی پناہ گاہ کے رہ رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پر لوگوں کو خیموں میں رکھا گیا ہے لیکن یہ بھی واٹرپروف نہیں ہیں۔ عابد شاہ نے بتایا کہ بارش ہونے کے باوجود امدادی پروگرام مسلسل جاری ہے۔ واضح رہے کہ وادی میں آئے شدید سیلاب سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب سے کشمیر میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی موت ہوئی ہے اور بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس سے قبل بیماریوں کے پھیلنے کے بارے میں بھی تشویش بڑھ گئي ہے۔ یہاں پندرہ لاکھ لوگ اب بھی کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر ریاستوں نے کمشیر کی مدد کی تاہم یہ امداد ناکافی ہے۔ کشمیری عوام عالمی برادری سے امداد کے منتظر ہیں تاہم کسی بھی ملک نے کشمیریوں کی مدد نہیں کی ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ ہماری توجہ ادویات اور کلورین جیسی پانی کو خالص کرنے کی ادویات پر ہے۔ کلورین کے لاکھوں ٹیبلیٹ تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری اہم تشویش دفاع اور کھانے کے انتظام کئے جانے کی جانب ہے جبکہ بیماریوں اور وبائی امراض کی روک تھام ہماری ترجیح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲