اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نازیوں کے مظالم کے وقت ایک یہودی کو پناہ دینے کے بدلے ہینک زینولی کو صیہونیوں کی جانب سے میڈل دیا گیا تھا لیکن غزہ پر حملے کے دوران صیہونی حکومت کے حملے میں اپنے خاندان کے 6 لوگوں کے مارے جانے کے بعد انہوں نے یہ میڈل واپس کر دیا۔
غزہ جنگ کے دوران صیہونی حکومت کے جنگی طیارے اے ایف-16 نے ہینک زینولی کے گھر کو نشانہ بنایا جس میں گھر میں موجود تمام لوگ مارے گئے۔ اس واقعہ کے بعد اس ریٹائرڈ وکیل نے ایک خط کے ساتھ اسرائیلی ایوارڈ واپس کر دیا۔
اپنے اس خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں اس ایوارڈ کو واپس کرتا ہوں جو میں نے جرمنی کے غاصبانہ قبضے کے دور میں اپنے خاندان کے ارکان کی جان داؤں پر لگا کر ایک یہودی کی جان بچانے کے بدلے میں حاصل کیا تھا۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے کو بھیجے اپنے خط میں ہینک زینولی نے لکھا ہے کہ 20 جولائی 2014 کو اسرائیل کی فوج کی جانب سے غزہ میں جو بم باری کی گئی اس میں چار منزلہ ایک عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی جس میں میرے خاندان کے لوگ رہا کرتے تھے۔ زینولی کا خاندان نازيوں کے قبضہ کا مخالف تھا اور ان کے والد کا قتل، نازيوں کے اس کیمپ میں کر دیا گیا تھا جہاں پر زبردستی کام کروایا جاتا تھا۔
.......
/169