اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیر توانائی تانر پلديز نے کہا ہے کہ اتاترک بند کو توڑنے اور استنبول پر حملے پر مبنی داعش کی دھمکی کو انقرہ سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی، دریائے فرات کے پانی کے بارے میں مذاکرات میں عراق کو اپنا ساتھی مانتا ہے۔
اس سے پہلے داعش نے اعلان کیا تھا کہ اگر ترکی، اتاترک ڈیم کا پانی، دریائے فرات کے لئے نہیں چھوڑتا ہے تو استنبول پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ترکی نے 1990 کی دہائی میں اس ملک کے جنوبی علاقوں میں کچھ بند بنا کر عراق اور شام کے لئے دجلا اور فرات کے لئے جانے والے پانی کو کنٹرول کر رکھا ہے۔ ترکی کی یہ کارروائی گزشتہ دو دہائیوں سے عراق اور شام سے اس کے آبی تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
.......
/169