ابنا: عراق کے باخبر ذرائع نے عراق کے الآفاق ٹی وی چینل کو بتایا کہ داعش کا یہ عقیدہ ہے کہ مذہب اور عیسائی برادری کو خوش کرنے کے لئے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے قرآن مجید میں تحریف کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید کی جن سوروں اور آیتوں کو داعش کے دہشت گرد تبدیل کرنا چاہتے ہیں ان میں سورہ كافرون اور آیت تطہیر شامل ہے۔
دوسری جانب دہشت گرد تنظیم داعش نے نینوا صوبے میں داخل کی جانے والی اشیاء پر ٹیکس لگا دیا ہے جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں نے کچھ مذہب مخالف اشیاء کو آگ لگا دی ہے۔
سومريہ نیوز ایجنسی نے نینوا صوبے کے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ داعش کے دہشت گردوں نے موصل شہر اور نینوا صوبے میں سگریٹ، خواتین کے نقاب مخالف لباس ، کو جلا دینے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح داعش کے دہشت گردوں نے یونیورسٹی میں طلباء اور طالبات کو الگ الگ بیٹھنے کا حکم بھی دیا ہے۔
واضح رہے کہ داعش کے دہشت گرد انبیاء کرام حضرت شيث اور جرجيس کے مزاروں اور کئی دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کر چکے ہیں۔ انہوں نے اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے مزار اور امام ابوالعلا کے مزار سمیت کئی دیگر مذہبی مقامات کو بھی دھماکے سے اڑا دیا۔تکفیری عقائد پر کاربند اس گروہ کے ایسے عقائد ہے جسے اسلام کے مسلمہ مسالک میں کوئی بھی قبول نہیں کرتا.
.......
/169