ابنا: غزہ کا محاصرہ توڑنے کی تحریک کے کوآرڈینیٹر نبیل ہلک نے آج پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں، غزہ ميں اسرائیل کی بربریت کو بےگناہ اور عام شہریوں کی نسل کشی قراردیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایک ہفتے کی مدت میں چار ہزار ٹن سے زیادہ دھماکہ خیز مواد غزہ کے نہتے عوام پر گرائے ہيں ۔ ہلک نے کہا کہ غزہ کے حملے میں مارے جانے والے عام شہریوں میں اسی فیصد عورتیں ، بچے اور بوڑھے ہيں ۔ دوسری جانب "مشرق وسطی کے بچوں کے اتحاد" کے ایک رکن نے کہا ہے کہ اس وقت غزہ کے بچے اسرائيلی حملوں کے سبب سخت دماغی اور نفسیاتی مشکلات سے دوچار ہیں ۔زیاد عباس نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ گفتکو میں کہا کہ جب بھی اسرائیل غزہ پر بمباری یا گولہ باری کرتا ہے تو اس کے اثرات، بچوں کی زندگي کے تمام پہلوؤں میں قابل مشاہدہ ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مرکز کی تحقیقات کے مطابق 2008 اور 2009 میں اسرائیل کی کاروائی کے بعد پتہ چلا ہےکہ غزہ کے اکثر بچے ان جنگوں سے متاثر ہوئے ہيں ۔
.......
/169