اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انسانی حقوق کے ایک سرکردہ گروپ ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اس سال کے پہلے چھہ ماہ کے دوران بوکو حرام نے تقریباً سو حملے کئے جن میں بم دھماکے بھی شامل ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں بازاروں، جسم فروشی کے ایک اڈے، ایک ٹیکنیکل کالج اور فٹ بال میچ دیکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
حقوق انسانی کے گروپ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بورنو ریاست کے دلے کے دیہی علاقے میں بوکو حرام کے دہشتگردوں کے چھاپے کے دوران کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے۔
دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اتوار کو رات گئے ہونے والے ایک حملے میں مسلح افراد نے شہریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی اور کلیساؤں کو نظر آتش کیا جن میں زیادہ تر دیہات مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کے تھے۔
بوکو حرام شمالی نائجیریا میں ایک سخت گیر قسم کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ اور شہریوں کے اغوا میں ملوث رہا ہے۔جس میں ملک کے شمالی قصبے چبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد طالبات کا اغوا کیا جانا شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲