ابنا: ترکی کے اپنے دورے کے دوران صدر روحانی اپنے ترک ہم منصب عبداللہ گل اور وزیر اعظم رجب طیب اردغان سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق، توانائی اور تجارتی شعبہ میں تعاون ترک عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے اہم موضوعات میں سے ہے۔
ترکی، ایران سے قدرتی گیس کی درآمد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے جس کا ایران نے خیر مقدم کیا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کو شام کے بحران سمیت خطے کے مسائل کے سیاسی حل میں مدد ملے گی۔
شام کے بحران سے متعلق ایران اور ترکی کی پالیسیوں میں اختلاف ہے تاہم دونوں ممالک باہمی تعلقات کے حوالے سے ایک نیا ماحول سازگار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکی کی طرف سے بنیاد پرست اسلامی گروپ، ’النصرہ‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔
ترکی کے سابق سفیر اور ’تسام‘ نامی تحقیقی تنظیم کے معاون سربراہ، مراد بلہن کا کہنا ہے کہ ترکی کو اس بات کا اندازہ ہے کہ وہ علاقے میں تیزی سے تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
ایران، ترکی کو توانائی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اور دونوں ملک باہمی تجارت کو وسیع تر کرنے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
جنوری میں ایران کے دورے کے دوران، ترک وزیر اعظم نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ سال سے باہمی تجارت کو دوگنا کرکے 30 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچایا جائے گا۔
.....
/169