13 اپریل 2014 - 12:55
بندر بن سلطان کی دربدری

فرانس کے باخبر ذرائع نے سعودی عرب کے اطلاعات کے رئیس بندر بن سلطان کی ریاض واپسی کے سلسلے میں امریکہ کے شرائط ،اور اس سلسلے میں سعد حریری کی ثالثیوں اور بندر بن سلطان کی طرف سے ان شرائط کے مان لیے جانے سے پردہ اٹھایا ہے۔

ابنا: الشرق الاوسط کی رپورٹ حوالے سے خبردی ہے کہ اگست ۲۰۱۳ میں سعودی عرب کے سراغرساں ادارے کے سربراہ بندر بن سلطان نے ،فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ کے ساتھ ایک ملاقات میں امریکہ کے اوپر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کے یورپ کی طرف جھکاو کی بات کہی جس کی وجہ سے امریکیوں کو غصہ آ گیا اور انہوں نے اس کو شام میں تکفیریوں کے اقدامات کی سرکردگی کے الزام میں ایک ایسے بین الاقوامی آوارہ گرد میں تبدیل کر دیا کہ جو روم اور مراکش اور مغربی ملکوں کے درمیان در بدر پھر رہا ہے اور امریکیوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش میں ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں نے بندر بن سلطان کی سعودی عرب واپسی کے سلسلے میں ،عہدوں کی تقسیم کے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے کہ جس کی رہبری امریکیوں کے کاندھوں پر ہے موافقت کا اعلان کر دیا ہے ۔

بندر بن سلطان اس وقت اپنے باپ سلطان بن عبد العزیز کے محل میں،اس کی کمر میں آپریشن کے بعد نقاہت کے ایام کو گذارنے کے بہانے قیام پذیر ہے لیکن حقیقت میں بندر بن سلطان جو ابھی تک سعودی عرب کے اطلاعات کے ادارے کی ریاست کی پوسٹ پر ہے اپنی حبس اجباری کے دن گذار رہا ہے ۔امریکہ کے صدر باراک اوباما نے دو دلیلوں سے بندر بن سلطان کو حبس اجباری پر مجبور کیا ہے ؛پہلی ،شام کی ذمہ داری کو اس سے لے کر اسے محمد بن نایف بن عبد العزیز کو دینا اور دوسری ،ملک عبد اللہ کی احتمالی موت کے بعد خاندان آل سعود میں عہدوں کو تقسیم کرنا ۔

فرانسیسی ذرائع نے اعلان کیا ہے: امریکہ نے باراک اوباما اور حکومتی خاندان کے بہت سارے ارکان کے درمیان نامہ نگاری کے بعد ،نیز لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری کی مکرر واسطہ گری کے بعد کچھ شرائط کے تحت بندر بن سلطان کی سعودی عرب واپسی کے ساتھ موافقت کی ہے ۔سعد حریری کی ثالثی کی وجہ آل سلطان کے ساتھ خاص قرابت اور محمد بن نایف کا خوف ہے۔

پیرس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق،بندر بن سلطان نے مراکش میں اپنی قیام گاہ پر ۲۵ مارچ کو سعد حریری اور اسی ماہ کی ۲۸ تاریخ کو محمد بن زاید آل نھیان ابو ظبی کے ولیعہد کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔لیکن سلطان بن سلطان نے جو سعودی عرب کے وزیر دفاع کا معاون ہے بندر بن سلطان کے ساتھ ایک ملاقات میں اس کو گذشتہ فروری کے اواخر میں امریکی حکام کے ساتھ اپنی بات چیت کے نتائج سے آگاہ کیا۔۔ان مذاکرات میں بندر بن سلطان کے موضوع پر امریکی حکام کے ساتھ رائے مشورہ کیا گیا ہے۔ شام کے موضوع میں بندر بن سلطان کی شکست کے بعد کہ جس کی وجہ سے امریکی ،سیاسی بحران میں پھنس گئے تھے ،امریکیوں نے اس کام کو سعودی عرب کے وزیر داخلہ محمد بن نایف کو جو بندر بن سلطان کا چچا زاد ہے سونپ دیا کہ جوواشنگٹن کے نزدیک قابل قبول شخصیت ہے۔

باخبر ذرائع نے بندر بن سلطان کو واپس بلانے کے سلسلے میں آل سلطان کی کوششوں کے بارے میں خبر دی ہے اور اضافہ کیا ہے: آل سلطان کو اس درخواست میں ایک غیر متوقع حلیف مل گیا ہے اور وہ سعودی عرب کا نیا ولی عہد مقرن بن عبد العزیز کے علاوہ کوئی نہیں ۔مقرن بن سلطان اگر چہ پہلے بندر بن سلطان کا رقیب رہا ہے لیکن سعودی عرب کی ولی عہدی سنبھالنے کے بعد وہ بندر بن سلطان کی ریاض واپسی کا خواہاں ہے تا کہ وہ قومی گارڈ کے رئیس متعب بن عبد اللہ اور وزیر داخلہ محمد بن نایف کا سامنا کرنے میں اس کی مدد کرے،خاص کر ایسی صورت میں کہ جب آل سلطان سعودی عرب کی فوج میں تاریخی نفوذ رکھتے ہیں اور اس کا تعلق سلطان بن عبد العزیز سے ہے کہ جو پچاس سال تک وزارت دفاع کے عہدے پر تھا ۔اسی طرح بندر اور مقرن بن عبد العزیز ،ایران عراق اور حزب اللہ کے ساتھ دشمنی پر مبنی موقف رکھتے ہیں ۔

لیکن فرانسیسی ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابقِ بندر بن سلطان کی واپسی کی شرط ،اپنے چچا مقرن اور چچا زاد محمد بن نایف کے ساتھ شام کے مسئلے میں تعاون ہے کہ جس کام کو واشنگٹن نے سعودی عرب کے وزیر داخلہ کے سپرد کیا ہے۔

.......

/169

لیبلز