ابنا: فارن پالیسی جریدے کے حوالے سے ذرائع کے مطابق امریکہ کے سابق وزیر جنگ کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ، کرائمیا کے مسئلے میں اپنا موقف منوانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے جبکہ رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ اب دیر ہوچکی ہے اور کرائمیا کو روس کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔رابرٹ گیٹس نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکام، اس بات کی توقع کررہے ہیں کہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کرائمیا میں روسی فوج کی موجودگی کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔رابرٹ گیٹس کے مطابق اگر چہ یورپ و امریکہ نے روس کے خلاف مختلف قسم کی دھمکیاں بھی دے ڈالی ہیں تاہم ایسا نظر نہیں آتا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین پیچھے ہٹنے پر تیار ہوں گے۔امریکہ کے سابق وزیر جنگ نے کہا ہے کہ روس کے خلاف فوجی کاروائی زیر غور نہیں ہے اور پابندیوں کے اقدام سے بھی روس پر کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔امریکہ کے اس سابق عہدیدار کا یہ بیان، ایسی حالت میں سامنے آيا ہے کہ مبصرین، یوکرین کی موجودہ صورت حال کو مغرب کی نادرست پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔......./169
9 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 512687
امریکہ کے سابق وزیر جنگ رابرٹ گیٹس نے ماسکو کے خلاف مغربی اقدامات کے کارگر ثابت ہونے کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں لگتا کہ کرائمیا کو روس کے ہاتھ سے واپس لیا جاسکے گا۔