ابنا: پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں، دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی، زائرین کیلئے دوسرا روٹ استعمال کرنے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے، آپ کا احتجاج جائز ہیں، ہم آپ کے احتجاج میں شریک ہیں، سانحہ مستونگ میں جو افراد شدید زخمی ہوئے انہیں فوری طور پر کراچی منتقل کیا جارہا ہے، اپنے تمام وسائل عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بدھ کی شام کو اسلام آباد سے آئی جی ایف سی میجر جنرل محمد اعجاز شاہد کے ہمراہ خصوصی طیارے سے کوئٹہ پہنچے۔ وہ ائیرپورٹ سے سیدھے سی ایم ایچ ہسپتال گئے، جہاں انہوں نے سانحہ مستونگ میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کی اور بعد میں علمدار روڈ کوئٹہ جہاں پر سانحہ مستونگ میں شہید ہونیوالے افراد کے لواحقین کے احتجاجی دھرنا دیا ہے، وہاں گئے اور دھرنے کے شرکاء سے خطاب کیا۔ وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ اس وقت دہشتگردوں نے بلوچستان کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، تفتان سے کوئٹہ تک 750 کلومیٹر طویل پٹی پر کسی وقت بھی دہشتگردی کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری حکومت صوبے میں تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے جاں و مال کا تحفظ کرے گی اور کر رہی ہے اور تمام وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ ہسپتال میں سانحہ مستونگ میں زخمی ہونیوالوں کے حوصلے بلند ہیں، ان کا سرکاری طور پر علاج کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا جو دھرنا علمدار روڈ پر جاری ہے، یہ احتجاج آپ کا حق ہے، میں آپ کیساتھ شریک ہوں، اس وقت میرے ساتھ صوبائی کابینہ کے وزراء، ارکان اسمبلی، اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی بھی موجود ہیں، ہم آپ کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔ عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اس وقت غیر ملکی دہشتگرد بلوچستان میں داخل ہوگئے ہیں، وہ عناصر بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں، ان سازشوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے بلکہ اور بلند ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ مستونگ میں شہید ہونیوالے کے لواحقین سے میں اظہار تعزیت کرتا ہوں، ہماری کوشش ہے کہ زائرین کیلئے آئندہ متبادل کوئی راستہ اپنایا جائے، تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہوسکے جس میں قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔ بعدازاں وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ، اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی میر جان محمد جمالی، صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی وزیر خوراک میر اظہار خان کھوسہ نے شیعہ رہنماوں سے مذاکرات کئے، مذاکرات کی قیادت رکن صوبائی اسمبلی آغا رضا رضوی نے کی، مذاکرات میں سانحہ مستونگ میں شہید ہونیوالوں کے ورثاء کا موقف تھا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ تاہم بعدازاں مذاکرات بے نتیجہ ہی ختم ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
21 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 499191
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں، دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی