ایک شخص متعدد نیک صفات کا مالک تھا اور اس سے کئی کرامات بھی ظاہر ہوئی تھیں لیکن امام علیہ السلام نے اس کے تشیع کے دعوے کو مسترد کیا اور فرمایا: "یا عبدالله لست من شیعه علی(ع)، انما انت من محبیه إنما شيعة علي عليه السلام الذين قال عزوجل فيهم: "وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُولَـئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ". (بقره – 82) هم الذين آمنوا بالله ووصفوه بصفاته، ونزهوه عن خلاف صفاته، وصدقوا محمدا في أقواله، وصوبوه في كل أفعاله، ورأوا عليا بعده سيدا إماما، وقرما هماما لا يعدله من امة محمد أحد، ولا كلهم إذا اجتمعوا في كفة يوزنون بوزنه، بل يرجح عليهم كما ترجح السماء والارض على الذرة. وشيعة علي عليه السلام هم الذين لا يبالون في سبيل الله أوقع الموت عليهم، أو وقعوا على الموت. وشيعة علي عليه السلام هم الذين يؤثرون إخوانهم على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة"۔(تفسیر الامام الحسن العسکری علیہ السلام ص319)اے بندہ خدا! تم علی بن ابی طالب (ع) کے شیعوں میں سے نہیں ہو بلکہ آپ (ص) کے دوست ہو۔ [گویا اس شخص نے دوستی کی تمام شرطیں پوری کی تھیں جو امام باقر علیہ السلام کی مذکورہ بالا حدیث میں مذکور ہیں چنانچہ دوستوں کے زمرے میں قرار پایا]، بےشک شیعیان علی وہی ہیں جن کی شان میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے: اور جو ایمان لائیں اور اچھے اعمال بجا لائیں تو یہ لوگ بہشت والے ہیں جو کہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔شیعیان علی وہ ہیں جو خدا پر ایمان کامل رکھتے ہیں اور اس کو ایسے اوصاف سے موصوف کرتے ہیں جو اللہ تعالی نے خود بیان فرمائے ہیں اور اللہ تعالی کو ان اوصاف سے پاک و منزہ سمجھتے ہیں جو اللہ کے بیان کردہ اوصاف کے سوا ہیں؛ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام ارشادات و فرامین کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ (ص) کے تمام افعال و اعمال کو درست اور "صواب" سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ علی (ع) رسول اللہ (ص) کے بعد سب کے سید و امام و پیشوا ہیں اور ایسی ہستی ہیں جن کا امت محمد (ص) میں کوئی برابر و ہمتا نہیں ہے؛ بلکہ اگر پوری امت کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور علی (ع) کو دوسرے پلڑے میں قرار دیں علی (ع) والے پلڑے کو پوری امت پر بھاری سمجھتے ہیں؛ اور ترجیح دیتے ہیں ایک بے مقدار ذرے کے مقابلے میں پورے آسمان و زمین کے بھاری پن کی مانند۔ اور شیعیان علی علیہ السلام وہ ہیں جن کو اللہ کی راہ میں کوئی پروا نہیں ہے کہ موت ان پر آ پڑے یا وہ موت پر جا پڑیں۔ اور شیعیان علی علیہ السلام وہ ہیں جو اپنے بھائیوں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود تنگ دست ہی کیوں نہ ہوں"۔اور ہاں بے ادبی
19۔ شیعہ بے ادب بھی نہیں ہوتاشیعیان علی کہلانے والے امام علی علیہ السلام سے منسوب کئے جاتے ہیں اور علی علیہ السلام کا ادب دیکھ کر ہمارے لئے محاسبے کی ایک اور راستہ کھل جاتا ہے اور وہ یہ کہ امام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام شرک خدا کی بات خدا کے بغیر کسی اور سے کرنے کو بے ادبی قرار دیتے ہيں اور بے ادبی ایک نہایت ظریف قسم کی وضاحت بھی کرتے ہیں؛ حدیث دیکھئے:حضرت امیر علیہ السلام کے ایک صحابی "نوف البکالی" کہتے ہیں: "رَاَيْتُ أميرَ المُؤمِنينَ عليهالسلام مُوَلِّيا مُبادِرا ، فَقُلْتُ : اَيْنَ تُريدُ يا مَولاىَ؟ فَقالَ : دَعنى يا نَوفُ ، اِنَّ آمالى تُقَدِّمُنى فِى المَحبوبِ. فَقُلتُ : يا مَولاىَ وَ ما آمالُكَ؟ قالَ : قَدْ عَلِمَهَا الْمَأمولُ وَ اسْتَغنَيتُ عَنْ تَبيينِها لِغَيْرِهِ ، وَكَفى بِالْعَبْدِ اَدَبا اَلاّ يُشْرِكَ فى نِعَمِهِ و اِرْبِهِ غَيْرَ رَبِّهِ"۔(بحار الانوار ج91 ص 94 - عبدالواحد بن محمد بن عبدالواحد الآمدی التمیمی ۔ غرر الحكم، ح 10599)۔میں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو تیز تیز قدم اٹھا کر چلتے ہوئے دیکھا اور عرض کیا: میرے مولا! کہاں جارہے ہیں؟فرمایا: میری آرزوئیں مجھے اپنے محبوب کی طرف لے جارہی ہیں۔میں نے عرض کیا: مولائے من! آپ کی آرزوئیں کیا ہیں؟جس کی آرزو ہے وہ خود جانتا ہے کہ میری آرزوئیں کیا ہیں۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ میں وہ آرزوئیں اس کے سوا کسی اور کو بتاؤں۔ بندے کے لئے اتنا ہی ادب کافی ہے کہ وہ اپنی نعمتوں میں اور اپنی ضروریات و احتیاجات میں اپنے پروردگار کے سوا کسی اور کو شریک نہ کرے۔نکتہ یہ ہے کہ میرے اور آپ کے امیر اور امام ادب کا اتنا لحاظ رکھتے ہیں چنانچہ سوال اٹھتا ہے کہ "اگر محبوب کی بات محبوب سے کرنا ادب ہے اور وہی بات غیر محبوب سے کرنا بے ادبی ہے تو ہمارے رویئے کیا ہیں؟ کیا ہم اخلاق و آداب اور اجتماعی رویوں اور خدا کی بندگی کے علوی کسوٹی پر اتر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیعہ شرک سے دوری کرتا ہے"شرک" کیا ہے؟ مشرک کون ہے؟ شرک یہ ہے کہ کوئی اللہ تعالی کی ذات یا صفات خاصہ میں کسی کو شریک قرار دے، قدیم، قادر، مطلق، حی، مرید، مدرک متکلم، عالم، خدا کی صفات ثبوتیہ ہیں جن میں کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اگر اور خدا خالق و مالک ہے اب کسی اور کو ان صفات سے بلا قید، متصف سمجھا جائے تو یہ شرک ہے۔ اور اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے تو وہ شرک میں مبتلا ہے۔شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی "لا مؤثر في الوجود إلا الله سبحانه"، عالم وجود میں اللہ سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی بھی مؤثر نہیں ہے اور اللہ کے سوا جتنے بھی انبیاء اور اولیاء اور اقطاب و علماء و عرفاء یا عام انسان یا دیگر موجودات بھی ہیں وہ سب اللہ تعالی کی مخلوق ہیں چنانچہ ان کو وجود میں مؤثر سمجھنا شرک ہے اور کہیں کوئی نبی یا کوئی ولی کوئی معجزہ دکھاتا یا کائنات میں کوئی تصرف کرتا نظر آئے تو جان لینا چاہئے کہ اس کو تصرف کا یہ حق اور یہ اختیار اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے اور یہ تصرف ان کا ذاتی نہیں ہے۔ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے تابعدار اسی لئے ہیں کہ وہ "اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں" اور ان کا اعتبار اللہ تعالی کی ذات سے براہ راست وابستگی کی بنا پر ہے؛ اب اگر ہم ان کی مدح سرائی میں حد سے بڑھ جائیں. متقی ہندی علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا: "عن علي قال : يهلك في رجلان : محب مُفرِط ، و مبغض مُفَرِّط"۔ (1) دو آدمی میری وجہ سے نابود ہوجائیں گے: وہ جو میری محبت میں غُلُو کا ارتکاب کرے گا اور وہ جو میری دشمنی میں زیادہ روی کرے گا۔ اور نہج البلاغہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ (2) میری وجہ سے دو لوگ نابود ہوجائیں گے وہ جو میری محبت میں غلو کریں گے (اور مجھے اپنے درجے سے بڑھا کر (معاذاللہ) الوہیت کے قائل ہوں گے) اور وہ جو میری مخالفت میں بغض اور دشمنی کی انتہا تک پہنچیں گے۔میں مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: "يهلك في اثنان ولا ذنب لي: محب غال، ومفرط قال. (3) میری وجہ سے دو قسم کے لوگ ہلاک (نابود) ہوجائیں گے اور مجھ پر کوئی گناہ نہ ہوگا ... ۔ ابن ابي جمهور الأحسائي المستدرك للحاكم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اميرالمؤمنين علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا: "یا علي! يهلك فيك فئتان. محب غال ومبغض قال"۔ (4) اے علی! دو قسم کے لوگ آپ کی وجہ سے ہلاک اور نابود ہونگے ایک وہ جو آپ کی محبت میں زیادہ روی اور غُلُوْ کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ جو آپ کے ساتھ دشمنی کی انتہا کریں گے... اور فرائد السمطين، میں مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: دو قسم کے لوگ میری وجہ سے نابود ہونگے: زیادہ روی کرنے والے دوست اور بغض برتنے والے دشمن۔ (5)ہلاکت اور نابودی کا خطرہ چودہ معصومین کے سلسلے میں ہی نہیں بلکہ ان سے منسوب دیگر شخصیات کے حوالے سے بھی پیش آسکتا ہے۔ بعض لوگ اس زمانے میں بعض سادات کے بارے میں اسی مسئلے میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بعض دیگر امام حسین علیہ السلام کے بارے میں افراط اور زیادہ روی کے اس درجے پر پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ تلوار اور نیزے اور تیر کی جرأت ہی نہیں ہے کہ وہ امام اور خاندان بنی ہاشم کے قریب آئیں چنانچہ وہ جان کر یا پھر انجانے میں کربلا کی خاک پر رقم ہونے والے حق و باطل کے تاریخی معرکے کو جھٹلا رہے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی قربانی کے سامنے سوالیہ علامت ثبت کرنے کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں یا بعض لوگ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں افراط اور زیادہ روی میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ (معاذاللہ) "لم یلد و لم یولد" ہیں! اور یوں وہ کئی غلطیوں کا ارتکاب کررہے ہیں کہ اولاً چودہ معصومین کس طرح اس دنیا میں آئے اور دوسری بات یہ کہ جو سادات اس دنیا میں موجود ہیں وہ کون ہیں؟ کیا سادات اہل بیت علیہم السلام کی اولاد نہيں ہیں؟ اگر وہ لم یلد ہیں تو سادات کیونکر ان کی اولاد ہوسکتے ہیں اور اگر امام حسن اور امام حسین علیہما السلام امام علی علیہ السلام کے فرزند ہیں اور امام زین العابدین امام حسین کے اور امام محمد باقر امام زین العابدین کے فرزند اور ہر امام اپنے سے پہلے امام کے بھائی یا فرزند ہیں تو لم یولد ہونے کا ثبوت کیا ہے؟جو کچھ عرض ہوا وہ اس دعوے کے الفاظ سے متعلق تھا اور مذکورہ بالا حدیث کے حوالے سے یہ ہلاکت کا سبب بھی ہے اور پھر ان لوگوں کے عقائد دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ نسل پرستی کا شکار بھی ہیں اور ایک خاص نسل کو آگے رکھ کر در حقیقت اسلام اور اسلام کے تمام احکام کو بھی جھٹلاتے ہيں اور ان پرعمل کرنا بھی ضروری نہيں سمجھتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین اسلام کے پیغمبر بن کر شرافت کے اس درجے پر ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ "بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر" اور امام علی رسول اسلام کی جانشینی اور اسلام کے لئے قربانی اور شہادت کی وجہ سے رسول اللہ (ص) کے بعد امت میں سب پر بھاری ہیں اور 11 امام اور سیدہ سلام اللہ علیہا سب کی عظمت اسلام کے لئے شہادت کی سرحد تک جانے کی وجہ سے خدا اور خلق خدا کے عزیز ہیں اور رہیں گے۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ اس طرح کے عقائد میں مبتلا حضرات کو لامحالہ تاریخ کے تمام حقائق اور مذہب شیعہ کے تمام علوم اور حصولیابیوں نیز مرجعیت اور عاشورا اور اصولی طور پر قرآن مجید اور فلسفۂ امامت و مہدویت تک کو جھٹلانا پڑتا ہے چنانچہ ان افراد کو شیعہ مذہب و مکتب کے سینے پر ایک نیا زخم کہنا ہی بجا ہوگا یا اس کو ایک انتہا پسند فرقہ کہا جاسکتا ہے اور مکتب امامت ان کے عقائد و نظریات سے بری ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ذات باری تعالی کی نسبت شرک کا ادراک زیادہ آسان ہے لیکن اس کی صفات کی نسبت شرک کا ادراک بہت مشکل ہے کیونکہ بہت سے مواقع پر شرک برتنے والے کو خود معلوم و محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ شرک میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ عبادت کررہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت شرک اس کے عمل میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔شرک کیا ہےشرک یعنی: غیر خدا پر تکیہ کرنا اور مخلوق خدا کو خدا کا درجہ دینا۔شرک یعنی: کوئی دوسری قدرت کو