ابنا: بشار اسد نے دار الحکومت دمشق میں مسلم دانشورں اور رہنماؤں سے ملاقات میں کہا کہ اس وقت ملک کی صورتحال پہلے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور شام موجودہ بحران سے کامیاب ہو کر نکلے گا۔ شامی صدر نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف لڑائی میں فوج مضبوط ہے اور اصلی جنگ تکفیری دہشتگردوں کے خلاف ہے۔بشار اسد نے کہا کہ دنیا کے ممالک بحران شام کے بارے میں اپنے مواقف میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے تشدد جاری ہے اور اس ملک میں دنیا کے 80 ملکوں سے بھی زیادہ سے انتہا پسندوں کو جمع کرکے جنگ میں چھونک دیا گیا ہے۔اس اقدام میں امریکا، قطر، سعودی عرب، ترکی اور اردن جیسے ممالک پیش پیش تھے تاہم شامی فوج اور عوام نے اس بحرانی صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں غیر ملکی سازشیں ناکام ہوگئیں اور یہ ملک آہستہ آہستہ بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
.......
/169