15 دسمبر 2013 - 20:30
بنگلا دیش میں جاری بحران

جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی سزائے موت کے خلاف بنگلادیش میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا ملک گیر سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق عبدالقادر ملا کی سزائے موت کے خلاف احتجاجات کے ساتھ ساتھ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

ابنا: ذرائع کے مطابق عبدالقادر ملا کی سزائے موت کے خلاف احتجاجات کے ساتھ ساتھ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی سزائے موت کے بعد بنگلادیش کے کئی شہروں میں پیش آنے والے پْرتشدد واقعات میں ابتک 35 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ہنگاموں کے دوران حکمراں جماعت کے حامیوں کے گھروں کو آگ بھی لگادی گئی۔بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ہنگاموں کے خلاف کریک ڈاوٴن کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مزید انتشار برداشت نہیں کیا جائے گا۔بنگلا دیش میں اس تازہ بحران کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی سزائے موت کے خلاف اس ملک کی سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرنے سے انکار کردیا اور ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا جس کے بعد فوری طور پر عبدالقادر ملا کو پھانسی دیدی گئی۔ بنگلہ دیش میں یہ بحران ایسی صورت میں تشدد کی شکل اختیار کرگیا جبکہ اس ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے اٹھ کھڑا ہونے والا سیاسی بحران پہلے ہی سے جاری ہے اور بیگم خالدہ ضیاء کا مطالبہ ہے کہ ایک غیر جانبدار حکومت قائم کرکے اس کی زیر نگرانی عام انتخابات کروائے جائیں۔ بی این پی کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کے اقتدار میں رہتے ہوئے بنگلا دیش میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔

.......

/169