7 دسمبر 2013 - 20:30
شام: عیسائیوں پر دہشت گردوں کے تازہ حملے

اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے اس بار القلمون کے علاقے میں صیدنایا میں سکونت پذیر عیسائیوں پر حملہ کیا ہے اور انہیں قتل عام کی دھمکی دی ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق معلولا میں مارتقلا گرجاگھر پر حملے اور وہاں سے 12 راہباؤں اور متعدد یتیم بچوں کو اغوا کرنے کے بعد اس بار دہشت گردوں نے صیدنایا کے عیسائیوں کو حملے کی دھمکی دی ہے۔ صیدنایا کے عیسائیوں پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملے باعث تشویش ہیں۔ دہشت گردوں نے صیدنایا کے علاقے میں شیروبیم نامی کلیسا پر حملہ کیا اور رنکوس اور تلفیتا کے علاقوں سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جنہیں ناکام بنایا گیا تاہم دہشت گرد اب بھی دیر شیروبیم اور اس کے اطراف میں دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بار عیسائیوں کی ایک اور آبادی پر دہشت گردوں کے ممکنہ قبضے پر یورپی ممالک نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے بلاد شام میں عیسائی ورثے پر دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ شام کی قومی اسمبلی کی رکن "ماریا سعادہ" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: تکفیری تفکر شام میں پھیل چکا ہے اور تکفیریوں نے دھمکی دی ہے کہ اس تفکر کو یورپ میں بھی پھیلائیں گے چنانچہ یورپ کو اب ان کے خلاف واضح موقف اپنانا پڑے گا ورنہ یہ دہشت گرد ان کے لئے بھی خطرناک ثابت ہونگے۔  ادھر عیسائی امور کے ماہر "سعادہ یازجی" نے کہا: تکفیری دہشت گرد تین دن قبل صیدیانا کےعمومی علاقے میں پہنچے ہیں اور شامی افواج سے جھڑپوں کے دوران ہی قریبی گھروں کو نذر آتش کیا ہے۔ انھوں نے کہا: دہشت گردوں نے معلولا پر حملہ کیا تو فوج شہر کے نواح میں موجود تھی لیکن اگر فوج دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرتی تو شہر تباہ ہوجاتا اور اس شہر میں موجود عالمی ورثہ بھی تباہ ہوجاتا اور بےگناہ عوام کو جانی نقصان پہنچتا چنانچہ سرکاری افواج نے وقتی طور پر شہر کے نواح سے پسپائی اختیار کی اور دہشت گردوں نے بارہ راہباؤں اور گرجا گھر میں پلنے والے متعدد یتیم بچوں کو اغوا کیا۔ واضح رہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادتگاہوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے اور دہشت گردوں نے الرقہ نامی شہر میں کلیساؤں کو اپنے مورچوں میں تبدیل کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ جو بھی ان کے خلاف اظہار خیال کرے گا وہ قتل کیا جائے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭