اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حماس کے سینئر لیڈر محمود الزہار نے "فلسطینی ایشو کے ساتھ یوم ابلاغی یکجہتی" کے موقع پر المنار چینل کی ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: شام کے مسئلے میں حماس کے بعض راہنماؤں کے موقف کی وجہ سے تصور کیا گیا کہ گویا حماس محاذ مزاحمت سے خارج ہوگئی ہے اور دشمن کے خلاف استقامت کو ترک کرگئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حماس تحریک اپنے موقف پر بدستور قائم ہے اور ہم ایسی تحریک ہیں جو ہر اس فوت کی تائید و حمایت کرتے ہیں جو قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت کے راہ پر گامزن ہے۔ الزہار نے کہا: ان قوتوں کی حمایت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم ان کے ساتھ ایک اتحاد میں شامل ہوں یا ان کے ساتھ سیاسی تعاون کررہے ہوں لیکن اس کے باوجود جو بھی صہیونی ریاست کی توسیع پسندی اور ممالک پر قبضے کے مقابلے میں ڈٹ جائے اور فلسطین اور اس کی مزاحمت کی حمایت کرے ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا: جماس کے بعض راہنماؤں کے موقف کا جو تجزیہ کیا گیا اور اس سے جو مطلب لیا گیا وہ ہماری تحریک کی پالیسی سے ہمآہنگ نہيں ہے کیونکہ ہم وہ تحریک ہیں جو فلسطین کی سرزمین کی آزادی کے خواہاں ہیں۔ حماس کے اس راہنما نے کہا: عربی بہار کے واقعات نے عرب اقوام کی توجہ فلسطین سے منحرف کردی اور فلسطین کا مسئلہ ایسے ممالک کے اندرونی اختلافات کا شکار ہوگیا ہے جنہیں عربی بہار کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا: "عربی بہار" ایک منفی اصطلاح ہے کیونکہ بہار کے بعد موسم گرما اور پھر خزان کا موسم آتا ہے اور آخر کار موسم سرما بھی آتا ہے اور یہ بہار ختم ہوجاتی ہے؛ جن لوگوں نے اس لفظ سے استفادہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ عرب دنیا کے حالاتے ایسے ہ ہی رہیں اور ان میں بہتری کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔ انھوںن ے عرب ممالک میں خانہ جنگیوں، فرقہ وارانہ قتل عام اور مذہبی اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عربی بہار کا لفظ ایجاد کرنے والوں کی خواہش آخر کار عملی صورت اختیار کرگئی اور وہی ہوا جو وہ چاہتے تھے اور عرب دنیا کو بہار کے بعد موسم گرما کی حدت و شدت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا: صرف دو ایسے عوامل ہیں جن کو ملحوظ رکھ کر عالم عرب درپیش مسائل سے دامن چھڑا سکتا ہے: 1۔ فلسطین کو ان مسائل سے دور رکھیں جو عالم عرب کو درپیش ہیں؛ یعنی یہ کہ مسئلہ فلسطین کو عرب ممالک کے اندرونی مسائل کی کسوٹی پر نہیں پرکھنا چاہئے۔ ہم نے اس عامل کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا اور فلسطینی مزاحمت کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ بعض عرب ممالک میں جاری مسائل سے بالکل دور رہیں۔ 2۔ عرب اقوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے، اور اگر ایسا ممکن ہوجائے تو عرب ممالک کی رائے عامہ ایک بار پھر مسئلۂ فلسطین کو عربی اور اسلامی دنیا کے بنیادی ایشو کے عنوان سے تسلیم کرے گی، اس کو اپنے مسائل میں سرفہرست رکھیں گے اور اس کے لئے مذہبی اور فرقہ وارانہ موضوعات سے بالکل الگ، مستقل کھاتہ کھولے گی۔ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ عرب اقوام اس مقصد کو حاصل کرہی لیں گی، گوکہ اس کے لئے وقت کی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
تفصیل کے لئے رجوع کریں:
اسلامی محاذ مزاحمت کی کامیابیاں اور صہیونی ریاست کی عظیم شکست کا آغاز