ابنا: مفتی محمد سعید رضوی مفتی محمد سعید رضوی سنی اتحاد کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سنی اتحاد کونسل میں مفتیان کرام اور علمائے کرام ونگ کے بھی ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سنی اتحاد کونسل میں فتاویٰ بورڈ کے بھی سربراہ ہیں۔ محمد سعید نے دنیاوی تعلیم میں ڈبل ماسٹر کیا ہے جبکہ دینی تعلیم میں درس نظامی تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اسلام ٹائمز نے ان سے طالبان سے متعلق سنی اتحاد کونسل کے حالیہ فتووں پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے۔ ادارہ.....اسلام ٹائمز: سنی اتحاد کونسل نے دہشتگردی کیخلاف کئی فتاویٰ دیئے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان فتووں پر کوئی عملدرآمد ہوتا ہے۔؟مفتی محمد سعید رضوی: دیکھیں! علماء کا کام ہے کہ شرعی نقطۂ نظر کو فتووں کی صورت میں واضح کرنا۔ سنی اتحاد کونسل ایک ایسی جماعت ہے کہ جس میں علمائے کرام اور مفتیان کرام کا ایک ونگ ہے اور جو ہر شرعی معاملے میں رہنمائی کرتا ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے علمائے کرام نے اہم موضوع پر جو فتاویٰ دیئے ہیں یقیناً بہت دور دور تک ان کی آواز سنی گئی ہے۔ جس میں طالبان کو عصر حاضر کا خوارج قرار دیا گیا۔ خارجیوں کا کام تھا کہ نبی کریم (ص) کا کلمہ پڑھنے والوں کو غیر مسلم کہہ کر قتل کرتے تھے اور وہی کام یہی لوگ کر رہے ہیں۔ جہاں تک ان فتووں کے عمل اور اس کی اہمیت کی بات ہے تو جب تک آپ پاور میں نہیں ہوتے تب تک فتویٰ پر عمل کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ علمائے کرام کا کام صرف شرعی احکامات کی رہنمائی کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سنی اتحاد کونسل نے اپنی سیاسی جدوجہد بھی کی ہے۔ ہم نے جلسے کیے، جلوس نکالے ہیں اور ہڑتالیں کیں ہیں، یعنی اپنا پیغام پہنچانے کے لیے سب کچھ کیا ہے۔ طالبان کی سوچ امن کے لیے، پاکستان کے لیے اور پاکستان کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسلام ٹائمز: ملا فضل اللہ کو طالبان نے اپنا امیر مقرر کیا ہے، اسکے تانے بانے بھارت سے بھی ملتے ہیں، اسے امیر بنا کر کیا پیغام دیا گیا ہے۔؟مفتی محمد سعید رضوی: صاف سی بات ہے کہ ملا فضل اللہ وہ شخص ہے جو افغانستان میں بیٹھ کر بھارتی ایجنسی راء کے ایجنٹ کے طور پر پاکستان کے خلاف اس وقت بھی سازشوں میں مصروف ہے اور ابھی بھی جو اس نے اعلان کیا ہے کہ ہم حکیم اللہ محسود کا بدلہ لیں گے اور وہ حملے پاکستان کی عوام پر کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکیم اللہ محسود کو پاکستانی عوام نے مارا ہے۔ اس اعلان کا مقصد صرف وہی ہے کہ جو بھارت چاہتا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جائے۔ حکیم اللہ محسود ہو، ملا فضل اللہ ہو یا بیت اللہ محسود ہو، یہ جتنے بھی لوگ تھے سب لوگ غیر ملکی سامراجی اور طاغوتی طاقتوں کے ایجنٹ تھے اور اب بھی ہیں۔ پاکستان جو اسلام کا قلعہ ہے، اس میں فسادات کروا کر، لوگوں کو آپس میں لڑوا کر یا مساجد میں بم بلاسٹ کرکے، مدارس، امام بارگاہوں اور چرچ میں حملے کرکے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کیا جا رہا ہے۔ یہ کام ملا فضل اللہ صرف اس لیے بھی کرنا چاہتا ہے کہ وہ یہ ثابت کرسکے کہ وہ اپنے سے پہلے لیڈروں سے زیادہ ظالم ہے۔
اسلام ٹائمز: حکیم اللہ محسود کو بعض لوگوں نے شہید کہا، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔؟مفتی محمد سعید رضوی: ہمارے تیس علمائے کرام اور مفتیان کرام کا مشترکہ لائحہ عمل ہے جو میڈیا تک پہنچ گیا ہے۔ جس میں ہم نے اس حوالے سے اپنا شرعی نقطۂ نظر واضح کر دیا ہے۔ حکیم اللہ محسود کو شہید کہنا قطعی طور پر درست نہیں ہے کیونکہ شہید وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ تعالٰی کے دین کی سربلندی کے لیے غیر مسلم لوگوں سے لڑتا ہوا مارا جائے۔ حکیم اللہ محسود نے تو کئی پاکستانیوں کو مارا ہے۔ اسی طرح بہت سی ایسی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ پس اسی لیے علمائے کرام نے اپنا موقف پورے میڈیا کو بھیج دیا ہے کہ حکیم اللہ محسود کو شہید کہنا قرآن و سنت کی روشنی میں درست نہیں ہے۔
اسلام ٹائمز: دو جماعتوں مجلس وحدت مسلمین اور سنی اتحاد کونسل نے الائنس آف پیٹریاٹ کا اعلان کیا، اس سے کیا نتائج اخذ ہونگے۔؟مفتی محمد سعید رضوی: سب سے پہلی ضروری بات یہ ہے کہ جہاں بھی کوئی فسادات ہوتے ہیں تو اس کو شیعہ سنی فساد کا نام دے دیا جاتا ہے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ مجلس وحدت مسلمین اہل تشیع کی نمائندگی کرتی ہے۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے سب سے بڑے طبقات کی نمائندگی کرتی ہے۔ صرف تکفیری ایک خاص مائینڈ سیٹ ہے اور ایک خاص گروہ ہے، جس کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ گروہ اہل تشیع اور اہل سنت دونوں کے لوگوں کو مار رہا ہے۔ اس لیے اس کو شیعہ سنی فسادات کا نام نہیں دینا چاہیے۔ ہم نے اپنے اتحاد سے یہ بات ثابت کی ہے کہ پاکستان میں یا دیگر ممالک میں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں ہے بلکہ یہ بدامنی پھیلانے والوں کا جھگڑا ہے۔ بدامنی پھیلانے والے، قتل و غارت کرنے والے امن پسند لوگوں کا قتل کر رہے ہیں اور قتل ہونے میں شیعہ افراد بھی ہیں اور سنی افراد بھی۔ ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کا الائنس آف پیٹریاٹ بنانے کا اعلان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہم پاکستان کی بقاء کیلئے ایک ہیں۔
اسلام ٹائمز: تکفیری گروہ کے لوگوں نے بہت زیادہ سنی مسجدوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اس کے راہ حل کے بارے میں کیا کہیں گے۔؟مفتی محمد سعید رضوی: ابھی بھی ہم گلگت بلتستان سے واپس آ رہے ہیں اور ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں کہ سنی مسجدوں میں بھی وہی درود و سلام پڑھا جاتا ہے جو اہل تشیع کی مسجدوں میں پڑھا جاتا ہے۔ بعض ایسے لوگ ہیں جو کلمہ بھی پڑھتے ہیں معاذ اللہ امام حسین علیہ السلام کو باغی بھی کہتے ہیں، ان لوگوں کی سوچ بالکل غلط ہے۔ حسین علیہ السلام سب کے لیے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کا پیغام سب کے لیے ہے کیونکہ حسینی ؑ ہونے میں ہی سب کی نجات ہے۔
........
/169